حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , " أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ؟ قَالَ عُقْبَةُ : فَأَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں یہی دونوں سورتیں ہمیں پڑھائیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس وقت خاص طور پر ان دونوں سورتوں کی اہمیت بتانے کے لیے آپ نے نماز انہیں دونوں سورتوں سے پڑھائی، فجر کی نماز میں جہاں آپ بڑی بڑی سورتیں پڑھا کرتے تھے وہیں کبھی متوسط اور کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں حتیٰ کہ معوذتین بھی پڑھا کرتے تھے، یہ سب حالات، نشاط، اور کبھی بیان جواز کے لیے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 953 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں یہی دونوں سورتیں ہمیں پڑھائیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5436]
اردو حاشہ: صبح کی نماز میں لمبی قراءت مسنون ہے۔ آپ کا طرز عمل یہی تھا مگر اس دن ان دو چھوٹی سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھنا ان کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ یہ باوجود مختصر ہونے کے بہت جامع اور افضل ہیں حتٰی کہ صبح کی نماز میں طویل قراءت کی جگہ کفایت کر سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5436 سے ماخوذ ہے۔