حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ " ، قُلْتُ : وَمَا أَقُولُ ؟ , قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " , فَقَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " لَمْ يَتَعَوَّذْ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ أَوْ لَا يَتَعَوَّذُ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” پڑھو “ ، میں نے کہا : کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : ” پڑھو «قل هو اللہ أحد‏» ، «قل أعوذ برب الفلق» ، «قل أعوذ برب الناس» “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھا اور فرمایا : ” لوگوں نے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی “ ، یا فرمایا : ” لوگ نہیں مانگتے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 954 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معوذتین پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
954۔ اردو حاشیہ: مبتدی طالب علم کو چھوٹی سورتوں سے ابتدا کرنی چاہیے، نہ کہ بڑی سورتوں سے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ابتداء ہی دو لمبی سورتیں، یعنی سورۂ ہود اور سورۂ یوسف سکھانے کا مطلبہ کیا تو آپ نے رہنمائی فرمائی کہ چھوٹی سورتوں سے ابتدا کریں۔ چھوٹی سورتوں کی اپنی فضیلت ہے۔ یا ممکن ہے استعاذہ کا موقع ہو۔ ظاہر ہے معوذتین کو اس مقصد سے جو مناسبت ہے، وہ کسی اور سورت کو نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 954 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5430 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔`
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اندھیرے کے ساتھ بارش ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھانے کے لیے انتظار کیا، پھر کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو ، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد‏» اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین بار پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہارے لیے ہر تکلیف و مصیبت میں کافی [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی ؒ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد استعاذے کی مشروعیت بیان کرنا ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ ان مذکورہ تینوں سورتوں‘ یعنی سورہ اخلاص‘ سورہ فلق‘ اور سورہ ناس کی فضیلت کی واضح دلیل ہے‘ نیز یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ معوذتین‘ یعنی ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ قرآن کریم کی سورتیں اور اس کا حصہ ہیں۔ یہ محض استعاذے کی دعائیں نہیں۔ مزید برآں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان صورتوں کے ابتدا میں جو لفظ (قل) وارد ہے ‘یہ قرآن ہی کا لفظ ہے اور متواتر ثابت ہے اور اس کا مقام بسم اللہ الرحمٰن الرحم کے بعد ہے۔
(3) ہر مصیبت سے یعنی جن سے پناہ ممکن ہے ورنہ موت وغیرہ سےبچاؤ تو ممکن نہیں‘ البتہ ہر چیز کے شر سے بچاؤ حاصل ہو گا‘ مثلاً بری موت سے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5430 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5432 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد «قل أعوذ برب الفلق‏» پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے سات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]
اردو حاشہ: یعنی کوئی اور سورت یا کلام پناہ حاصل کر نے کے سلسلے میں ان کے برابر نہیں چہ جائیکہ افضل ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5432 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5440 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
اردو حاشہ: خاموش ہو گئے آپ کا ایک ہی بات فرمانا اور پھر خاموش ہو جانا مخاطب کے دل میں شوق او ر توجہ پیدا کرنے کے لیے تھا تا کہ اس کے نزدیک آئندہ بات کی اہمیت واضح ہو جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5440 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5441 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
اردو حاشہ: زیادہ عظمت والی ہو یعنی پناہ طلب کرنے کے بارے میں ورنہ کسی اور لحاظ سے کوئی اور سورت افضل ہو سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5441 سے ماخوذ ہے۔