سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ باب: عشاء کو عتمہ کہنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 543
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا : ” تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں ، جان لو اس کا نام عشاء ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے عشاء کو عتمہ کہنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ اعراب (دیہاتیوں) کی اصطلاح ہے، قرآن میں «ومن بعد صلاۃ العشاء» وارد ہے بعض حدیثوں میں جو عشاء کو عتمہ کہا گیا ہے اس کی تاویل کئی طریقے سے کی جاتی ہے، ایک تو یہ کہ یہ اطلاق نہی (ممانعت) سے پہلے کا ہو گا، دوسرے یہ کہ نہی تنزیہی ہے، تیسرے یہ کہ یہ اطلاق ان اعراب کو سمجھانے کے لیے ہو گا جو عشاء کو عتمہ کہتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´عشاء کو عتمہ کہنے کی کراہت۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ” تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 543]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: ” تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 543]
543۔ اردو حاشیہ: ➊پچھلے باب والی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عتمہ فرمایا ہے اور ان دو روایات میں اس سے روکا گیا ہے، لہٰذا یا تو پہلی روایت نہی سے پہلے کی ہو گی یا عتمہ کہنا جائز تو ہو گا مگر مناسب نہیں، یعنی مکروہ تنزیہی ہو گا کیونکہ قرآن مجید میں اس نماز کا نام صراحتاً عشاء ہے۔ اگر نام بدل گیا تو عشاء کی نماز کے احکام مجہول ہو جائیں گے۔
➋اعراب(بدوی لوگ) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کو عتمہ کہتے تھے بلکہ وہ مغرب کی نماز کو عشاء کہتے تھے۔ یہ تو قطعاً درست نہیں کیونکہ پھر عشاء کی نماز کے احکام مغرب پر جالگیں گے اور بہت پیچیدگی پیدا ہو جائے گی۔ عشاء کو عتمہ کہنا تو وصف کی بنا پر ہے، اس لیے اس میں کچھ نرمی ہے مگر مغرب کو عشاء کہنا قطعاً درست نہیں ہے۔
➌اعراب سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحرا میں الگ تھلگ رہتے تھے۔ شہروں اور بستیوں سے دور اور ان کی تہذیب سے نفور۔ انہیں بدوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ فصاحت و بلاغت اور خالص عربی زبان کے ماہر تھے۔
➋اعراب(بدوی لوگ) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کو عتمہ کہتے تھے بلکہ وہ مغرب کی نماز کو عشاء کہتے تھے۔ یہ تو قطعاً درست نہیں کیونکہ پھر عشاء کی نماز کے احکام مغرب پر جالگیں گے اور بہت پیچیدگی پیدا ہو جائے گی۔ عشاء کو عتمہ کہنا تو وصف کی بنا پر ہے، اس لیے اس میں کچھ نرمی ہے مگر مغرب کو عشاء کہنا قطعاً درست نہیں ہے۔
➌اعراب سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحرا میں الگ تھلگ رہتے تھے۔ شہروں اور بستیوں سے دور اور ان کی تہذیب سے نفور۔ انہیں بدوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ فصاحت و بلاغت اور خالص عربی زبان کے ماہر تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 543 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 644 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری عشاء کی نماز کے نام کے سلسلہ میں تم پر بدو غالب نہ آ جائیں، کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہو اور بدو اونٹوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر لیتے ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1456]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
حَلَاب: مصدر ہے اور معنی تھن سے دودھ نکالنا۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو عام طور پر عتمہ کہنے سے روکا ہے کہ اس کا غالب نام عتمہ ہو جائے کبھی کبھار عتمہ کہنے سے منع نہیں فرمایا، اس لیے بعض مواقع پر آپ نے خودعشاء کو عتمہ کے نام سے تعبیر فرمایا ہے اور عتمہ نام رکھنے کا آپﷺ نے سبب بھی بتا دیا ہے کہ گنوار چونکہ اونٹ دوہنے میں دیر کر دیتے ہیں اور اس کام میں اندھیرا پھیل جاتا ہے اس لیے وہ اس کو عتمہ کے نام سے پکارتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ عتمہ کہنا نہ شروع کر دینا کہ عشاء کا نام متروک یا مغلوب ہو جائے۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ﴾ (النور: 58)
حَلَاب: مصدر ہے اور معنی تھن سے دودھ نکالنا۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو عام طور پر عتمہ کہنے سے روکا ہے کہ اس کا غالب نام عتمہ ہو جائے کبھی کبھار عتمہ کہنے سے منع نہیں فرمایا، اس لیے بعض مواقع پر آپ نے خودعشاء کو عتمہ کے نام سے تعبیر فرمایا ہے اور عتمہ نام رکھنے کا آپﷺ نے سبب بھی بتا دیا ہے کہ گنوار چونکہ اونٹ دوہنے میں دیر کر دیتے ہیں اور اس کام میں اندھیرا پھیل جاتا ہے اس لیے وہ اس کو عتمہ کے نام سے پکارتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ عتمہ کہنا نہ شروع کر دینا کہ عشاء کا نام متروک یا مغلوب ہو جائے۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ﴾ (النور: 58)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 644 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 644 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تمہاری نماز کے نام پر تم پر گنوار غالب نہ آ جائیں، خبردار اس کا نام عشاء ہے، وہ اونٹوں کا دودھ دوہنے کی خاطر اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے کی بنا پر عشاء کو عتمہ کہتے ہیں)‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1455]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
هُمْ يُعْتِمَونُ بِالْاِبِل: وہ اونٹ دوہنے کی خاطر اندھیرا کرتے ہیں، عتمة رات کی تاریکی کو کہتے ہیں۔
هُمْ يُعْتِمَونُ بِالْاِبِل: وہ اونٹ دوہنے کی خاطر اندھیرا کرتے ہیں، عتمة رات کی تاریکی کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 644 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4984 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم پر «أعراب» (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4984]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم پر «أعراب» (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۲؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4984]
فوائد ومسائل:
ہمارے ہاں دیہاتوں میں بعض لوگ عشاء کی نماز کو سوتےکی نماز ظہر کو پیشی یا پییش (پہلی) اور عصر کو دیگر (دوسری) کہتے ہیں۔
لیکن اس فرمان کا مطلب یہ ہےکہ ایمانیات سے متعلق شرعی اصطلاحات غالب اور زبان زد عام ہونی چاہییں عرف سے مغلوب نہ ہونے پائیں۔
ہمارے ہاں دیہاتوں میں بعض لوگ عشاء کی نماز کو سوتےکی نماز ظہر کو پیشی یا پییش (پہلی) اور عصر کو دیگر (دوسری) کہتے ہیں۔
لیکن اس فرمان کا مطلب یہ ہےکہ ایمانیات سے متعلق شرعی اصطلاحات غالب اور زبان زد عام ہونی چاہییں عرف سے مغلوب نہ ہونے پائیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4984 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 704 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
اردو حاشہ: (1)
قرآن مجید میں عشاء کی نماز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ آیا ہے جہاں یہ حکم ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بچے اور غلام بھی اجازت لیکر گھر اور کمرے میں آئیں۔ (سورہ النور: 57)
اعرابیوں نے مغرب کی نماز کو عشاء اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا شروع کردیا تھا۔
اس سے خطرہ ہوا کہ لوگ اس حکم کو عشاء کے بجائے، مغرب کی نماز کے متعلق نہ سمجھ لیں، اس لیے شرعی اصطلاح کو اس طرح تبدیل کردینا کہ غلط فہمی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔
(2)
عتمہ اندھیرے کو کہتے ہیں چونکہ وہ لوگ شام کو کافی تاخیر سے یعنی اندھیرا ہونے پر اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے نماز عشاء کو عتمہ کہنا شروع کردیا۔
بعض احادیث میں نماز عشاء کو عتمہ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس نہی کو تنزیہی قرار دینا چاہیے یعنی عشاء کو عتمہ کہنے سے بچنا بہتر ہے، واللہ اعلم۔
قرآن مجید میں عشاء کی نماز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ آیا ہے جہاں یہ حکم ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بچے اور غلام بھی اجازت لیکر گھر اور کمرے میں آئیں۔ (سورہ النور: 57)
اعرابیوں نے مغرب کی نماز کو عشاء اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا شروع کردیا تھا۔
اس سے خطرہ ہوا کہ لوگ اس حکم کو عشاء کے بجائے، مغرب کی نماز کے متعلق نہ سمجھ لیں، اس لیے شرعی اصطلاح کو اس طرح تبدیل کردینا کہ غلط فہمی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔
(2)
عتمہ اندھیرے کو کہتے ہیں چونکہ وہ لوگ شام کو کافی تاخیر سے یعنی اندھیرا ہونے پر اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے نماز عشاء کو عتمہ کہنا شروع کردیا۔
بعض احادیث میں نماز عشاء کو عتمہ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس نہی کو تنزیہی قرار دینا چاہیے یعنی عشاء کو عتمہ کہنے سے بچنا بہتر ہے، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 704 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 652 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
652- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آجائیں یہ عشاء ہے، وہ لوگ اسے عتمہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت اونٹوں کے حوالے سے کام کاج کرکے فارغ ہوتے ہیں۔“ (یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے) سفیان کہتے ہیں: ابن ابولبید نے اسی طرح شک کے ہمراہ روایت نقل کی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:652]
فائدہ:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نمازوں کے نام بھی بذریعہ وحی رکھے گئے ہیں، ان کو اصل ناموں کے ساتھ ہی پکارنا چاہیے، عالمی لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ دین اسلام کی اصطلاحات کو اپنے ماحول کے مطابق تبدیل کردیں، مثلاً ا آج کل نماز عشاء کو” سوتے “ کی نماز کہتے ہیں، اور ظہر کی نماز کو ” پیشی“ کی نماز اور عصر کی نماز کو ”ڈیگر“ کی نماز کہنا درست نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں نے نماز عشاء کو اصل نام سے تبدیل کر کے ”عتمہ“ کہنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، آج بھی ضرورت ہے کہ عامی لوگوں کو ان کی بری عادات پر ڈانٹنا چاہیے، اور انھیں قرآن و حدیث پر ہی پابند کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نمازوں کے نام بھی بذریعہ وحی رکھے گئے ہیں، ان کو اصل ناموں کے ساتھ ہی پکارنا چاہیے، عالمی لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ دین اسلام کی اصطلاحات کو اپنے ماحول کے مطابق تبدیل کردیں، مثلاً ا آج کل نماز عشاء کو” سوتے “ کی نماز کہتے ہیں، اور ظہر کی نماز کو ” پیشی“ کی نماز اور عصر کی نماز کو ”ڈیگر“ کی نماز کہنا درست نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں نے نماز عشاء کو اصل نام سے تبدیل کر کے ”عتمہ“ کہنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، آج بھی ضرورت ہے کہ عامی لوگوں کو ان کی بری عادات پر ڈانٹنا چاہیے، اور انھیں قرآن و حدیث پر ہی پابند کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 652 سے ماخوذ ہے۔