سنن نسائي
كتاب آداب القضاة— کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
بَابُ : نَقْضِ الْحَاكِمِ مَا يَحْكُمُ بِهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ مِثْلُهُ أَوْ أَجَلُّ مِنْهُ باب: حاکم اپنے ہم منصب یا اس سے اوپر کے آدمی کے فیصلہ کو توڑ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا ، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا ، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ : كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا ؟ قَالَتْ : قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى ، قَالَ سُلَيْمَانُ : أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ , قَالَتِ الْكُبْرَى : نَعَمِ , اقْطَعُوهُ . فَقَالَتِ الصُّغْرَى : لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا ، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں نکلیں ، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے ، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا ، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں ، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا ، وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا : تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا ؟ ( چھوٹی ) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا ، سلیمان علیہ السلام نے کہا : میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا ، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہو گا ، بڑی عورت بولی : ہاں ! آپ اسے کاٹ دیں ، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا : ایسا نہ کیجئیے ، یہ بچہ اسی کا ہے ، چنانچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا؟ (چھوٹی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5406]
(2) یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحیح اور درست بات معلوم کرنے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے حیلہ کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس حیلے کا مقصد احقاق حق یا ابطال باطل ہی ہو۔ باطل اور ناجائز کو درست اور جائز قرار دینے کے لیے حیلہ کرنا شرعاً مذموم اور حرام ہے۔
(3) اگر فریقین اپنے حق کے بارے میں دوبارہ کسی اور سے فیصلہ کرانے کے حق میں ہوں تو بڑی خوشی سے کرواسکتے ہیں، خواہ دوسرا قاضی پہلے کے برابر ہو یا اس سے کم مرتبہ ہو جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہے، خصوصاً جب کہ دوسرے کے فیصلے کے بعد کسی اور کی طرف رجوع کرنا بے ایمانی کی دلیل ہے۔
(4) ”بچہ اسی کا ہے“ چونکہ اس قول کا مقصد صرف بچے کی جان بچانا تھا نہ کہ اقرار، اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے اقراری کلام پر عمل نہیں فرمایا بلکہ بچہ اسی کو دے دیا کیونکہ ان کو حق معلوم ہو چکا تھا بلکہ ہر ایک کے لیے واضح ہو چکا تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ تقاضہ فطرت کے مطابق تھا۔
بچہ درحقیقت چھوٹی ہی کا تھا تب ہی اس کے خون نے جوش مارا۔
(1)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے عورت کے دعویٰ ہی سے بچہ اس کے حوالے نہیں کیا بلکہ آثار وقرائن دیکھ کر چھوٹی عورت کو دے دیا۔
انھوں نے چھوٹی عورت کی شفقت سے استدلال کیا کہ وہ اس کی ماں ہے، چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی عورت سے کہا: اگر تیرا بیٹا ہوتا تو تو اسے دو لخت کرنے پر راضی نہ ہوتی۔
(2)
اس حدیث سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو کسی غیر معروف نسب والے بچے کے متعلق دعویٰ کرے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس دعوے کو مسترد نہ کرے تو اس کی بات اور دعویٰ تسلیم کیا جائے گا اور کسی ایک کے فوت ہونے پر دوسرا اس کا وارث ہوگا، نیز اس بچے کے مادری بھائی اس کے وارث ہوں گے۔
اگر اس کا شوہر زندہ ہو اور عورت اس کی موجودگی میں یہ دعویٰ کرے کہ فلاں بچہ اس کا بیٹا ہے لیکن شوہر اس کا انکار کرتا ہے تو عورت کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ہاں، اگر وہ اس پر دو گواہ پیش کر دے تو اس کی بات مان لی جائے گی۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 68/12)
چھری کو مدية اس ليے کہا جاتا ہے کہ وہ حیوان کی زندگی کی مدت ختم کر دیتی ہے اور سکين اس لیے کہتے ہیں کہ یہ حیوان کی حرکت میں سکون پیدا کر دیتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا، تو اس نے دوسری سے کہا: وہ تمہارا بچہ لے گیا، دوسری بولی: تمہارا بچہ لے گیا، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود علیہ السلام کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر وہ دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ایک چھری لاؤ، می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5404]
(2) ”یہ اسی کا ہے“ کیونکہ کاٹ دینے اور ٹکڑے کرنے سے کسی کا بھی نہیں رہے گا۔ اس کو دینے کی صورت میں بچہ نظر تو آئے گا اور ممتا کو کچھ نہ کچھ سکون تو ملتا رہے گا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ بیٹا اس کا ہے تبھی تو اسے زیادہ تکلیف ہوئی۔
(3) ”سکین“ عربی میں چھری کو سکین کہتے ہیں اور مدیہ بھی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاقے میں صرف مدیہ کہتے ہوں گے۔