سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : الْجُلُوسِ عَلَى الْكَرَاسِيِّ باب: کرسی پر بیٹھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ ؟ ,فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ , فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا , فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا " .
´ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ خطبہ دے رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے ، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے ؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے ، پھر ایک کرسی لائی گئی ، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا ، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں س [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5379]
(2) باب كا مقصود یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھنا جب کہ دیگر لوگ نیچے بیٹھے ہوں، منع نہیں، اگر اس کی ضرورت ہو، مثلاً: خطاب کرنا تا کہ سب لوگ سننے کے ساتھ ساتھ آسانی سے دیکھ بھی سکیں، ویسے بھی کرسی پر بیٹھنا تکبر کو مستلزم نہیں۔