حدیث نمبر: 5376
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَجَرِيرٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ , وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا ، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا ، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد 71 (2583)، سنن الترمذی/الجھاد 16 (1691)، والشمائل 13 (99)، (تحفة الأشراف: 1146، 1425، 18688) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تلوار کے دستہ کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
اردو حاشہ: نعل سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جو تلوار کی میان کے نبیچے لگا ہوتا ہے۔ گویا آپ کی میان میں لوہے کی بجائے چاندی لگی تھی۔ اور قبیعہ سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جسے تلوار کے دستے کے ایک کنارے میں لگایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5376 سے ماخوذ ہے۔