حدیث نمبر: 5375
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 142) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تلوار کے دستہ کا بیان۔`
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5375]
اردو حاشہ: چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے، نیز مرد کے لیے سونے کے زیورات بھی منع ہیں کیونکہ ان میں تکبر اور تعیش ہے مگر تلوار تو جاں کوشی بلکہ جاں فشانی کی علامت ہے۔ اس پر تھوڑا بہت سونا چاندی لگا ہو تو کوئی خرابی نہیں۔ جہاد تعیش سے کوسوں دور ہے، اس لیے تلوار کو چاندی سونے سےمزین کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ سونا مقطع، یعنی چھوٹے چھوٹے نشانات کی صورت میں ہو، نیز زیادہ مقدار میں نہ ہو۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے: (حدیث: 5152)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5375 سے ماخوذ ہے۔