سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : صِفَةِ نَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے وصف کا بیان۔
حدیث نمبر: 5370
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3107 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3107. حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت انس ؓنے بالوں کے بغیر چمڑے کی وہ پرانی جوتیاں ہمیں دکھائیں جن پر دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ثابت بنانی نے یہ حدیث حضرت انس ؓ کے حوالے سے بیان کی کہ انھوں نے فرمایا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی پاپوش مبارک ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3107]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ ﷺ کی تمام استعمال کردہ اشیاء بابرکت تھیں، ان سے برکت حاصل کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ ان اشیاء کی خود ساختہ تصاویر بطور نمائش استعمال کرنا خلاف شرع ہے، چنانچہ آج کل ایک مخصوس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اکثر دکانوں اور بسوں میں رسول اللہ ﷺ کی نعلین کی تصویر کے کارڈلیے پھرتے ہیں اور ان کے متعلق لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اسے گھر، دوکان یا دفتر میں رکھنے سے ہر قسم کی مصیبت اوربلاٹل جاتی ہے۔
تنگ دست کی تنگ دستی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے یہ سب جذباتی باتیں خلاف شریعت ہیں۔
تصویر سے اگراصل کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے تو ہر گھر میں بیت اللہ کی تصویر رکھ کر اس کا طواف کیا جاسکتا ہے اور وہاں نماز پڑھ کر لاکھ نماز کا ثواب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے؟ حجر اسود کی تصویر رکھ کر اس کو بوسہ دیا جائے تاکہ مکہ مکرمہ جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا فرمائے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ نعلین حضرت انس ؓ کے پاس تھیں اور انھیں بطور وراثت تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ ان کے پاس ہی انھیں رہنے دیا گیا۔
حضرت انس ؓ اپنی عمر کے آخری حصے میں دمشق چلے گئے۔
وہاں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نعلین مبارک بھی نویں ہجری کے آغازمیں فتنہ تیمورلنگ کے وقت ضائع ہوگئیں۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کی تمام استعمال کردہ اشیاء بابرکت تھیں، ان سے برکت حاصل کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ ان اشیاء کی خود ساختہ تصاویر بطور نمائش استعمال کرنا خلاف شرع ہے، چنانچہ آج کل ایک مخصوس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اکثر دکانوں اور بسوں میں رسول اللہ ﷺ کی نعلین کی تصویر کے کارڈلیے پھرتے ہیں اور ان کے متعلق لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اسے گھر، دوکان یا دفتر میں رکھنے سے ہر قسم کی مصیبت اوربلاٹل جاتی ہے۔
تنگ دست کی تنگ دستی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے یہ سب جذباتی باتیں خلاف شریعت ہیں۔
تصویر سے اگراصل کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے تو ہر گھر میں بیت اللہ کی تصویر رکھ کر اس کا طواف کیا جاسکتا ہے اور وہاں نماز پڑھ کر لاکھ نماز کا ثواب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے؟ حجر اسود کی تصویر رکھ کر اس کو بوسہ دیا جائے تاکہ مکہ مکرمہ جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا فرمائے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ نعلین حضرت انس ؓ کے پاس تھیں اور انھیں بطور وراثت تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ ان کے پاس ہی انھیں رہنے دیا گیا۔
حضرت انس ؓ اپنی عمر کے آخری حصے میں دمشق چلے گئے۔
وہاں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نعلین مبارک بھی نویں ہجری کے آغازمیں فتنہ تیمورلنگ کے وقت ضائع ہوگئیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3107 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4134 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جوتا پہننے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے (فیتے) لگے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4134]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے (فیتے) لگے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4134]
فوائد ومسائل:
ایک پٹی انگوٹھے کے ساتھ سے اور دوسری درمیانی اور ساتھ والی انگلی کے درمیان سے ہوتی ہوئی پاوں کی پشت پر عرض میں لگی پٹی سے جا ملتی تھے، جسے شراک کہا جاتا ہے۔
فائدہ: ظاہر ہے کہ یہ حکم ان جوتوں سے متعلق جنہیں ہاتھ کی مدد سے پہننا ہوتا ہے اور جو جوتے بلا تکلف پہنے جا سکتے ہوں ان کے لئے بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں۔
ایک پٹی انگوٹھے کے ساتھ سے اور دوسری درمیانی اور ساتھ والی انگلی کے درمیان سے ہوتی ہوئی پاوں کی پشت پر عرض میں لگی پٹی سے جا ملتی تھے، جسے شراک کہا جاتا ہے۔
فائدہ: ظاہر ہے کہ یہ حکم ان جوتوں سے متعلق جنہیں ہاتھ کی مدد سے پہننا ہوتا ہے اور جو جوتے بلا تکلف پہنے جا سکتے ہوں ان کے لئے بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4134 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5858 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5858. حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالک ؓ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر تشریف لائے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ ثابت بنانی کہا: یہ نبی ﷺ کے جوتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5858]
حدیث حاشیہ: اسی آخری جملے سے باب کا دوسرا مضمون ثابت ہوا حضرت عبداللہ بن مبارک علمائے ربانیین میں سے ہیں۔
امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔
بغداد میں درس حدیث دیا۔
سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔
رب توفني مسلما و ألحقني بالصالحین، آمین۔
امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔
بغداد میں درس حدیث دیا۔
سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔
رب توفني مسلما و ألحقني بالصالحین، آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5858 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5858 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5858. حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالک ؓ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر تشریف لائے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ ثابت بنانی کہا: یہ نبی ﷺ کے جوتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5858]
حدیث حاشیہ:
(1)
عہد نبوی میں جوتے کی بناوٹ دور حاضر کی ہوائی چپل سے ملتی جلتی تھی۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا انگلیوں کے درمیان ہوتا تھا اور اس کا دوسرا سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہے۔
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اتارے بغیر پاؤں دھو لیتے تھے جیسا کہ حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 166)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3614) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عنوان کا دوسرا جز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے تو ایک جوتے کا ایک تسمہ ثابت ہوا۔
(فتح الباری: 385/10)
(1)
عہد نبوی میں جوتے کی بناوٹ دور حاضر کی ہوائی چپل سے ملتی جلتی تھی۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا انگلیوں کے درمیان ہوتا تھا اور اس کا دوسرا سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہے۔
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اتارے بغیر پاؤں دھو لیتے تھے جیسا کہ حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 166)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3614) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عنوان کا دوسرا جز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے تو ایک جوتے کا ایک تسمہ ثابت ہوا۔
(فتح الباری: 385/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5858 سے ماخوذ ہے۔