سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ مَا يُكَلَّفُ أَصْحَابُ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 5365
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ اللَّهَ فِي خَلْقِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5365]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5365]
اردو حاشہ: یعنی ان کا یہ فعل نقل کی طرح ہی ہے اگر چہ ان کی نیت ایسی نہ ہو۔ واضح کام میں نیت نہیں دیکھی جاتی کیونکہ وہ تو مخفی ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بھی دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5365 سے ماخوذ ہے۔