حدیث نمبر: 5363
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَصْنَعُونَهَا يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں ، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے ، ان سے کہا جائے گا : زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 26 (2108)، (تحفة الأشراف 7520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس89 (5951)، والتوحید 56 (7558)، مسند احمد (2/4، 20، 26، 55، 101، 126، 139، 141، 125) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5363]
اردو حاشہ: "پیدا کرو" اور یہ محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ألا له الخلق، کسی کو سزا دینے کے لیے محال حکم دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں مقصود صرف ڈانٹنا اور سزا  دینا ہوتا ہے نہ کہ عمل یا اطاعت۔ اور اسے "تعلیق بالمحال" کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5363 سے ماخوذ ہے۔