حدیث نمبر: 5358
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَنَزَعَهُ وَقَالَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے ، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا ، جس میں تصویریں تھیں ، چنانچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا : ” قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس 91 (5954)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الأشراف: 17483)، مسند احمد (6/36، 83، 85، 86، 199، 219) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب والے لوگوں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، چنانچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: " قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5358]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تصویر سازی حرام ہے، ہاتھ سے ہو یا کیمرے وغیرہ سے بسا اوقات تصویر شرک کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
(2) "سخت ترین عذاب" اگرچہ خلق اللہ (اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ صورتیں) عام لفظ ہے، غیر ذی روح اشیاء پر بھی بولا جاسکتا ہے مگر یہاں ذی روح کی صورت مراد ہے کیونکہ متعلقہ پردہ پر ذی روح کی تصاویر تھیں جیسا کہ احادیث 5354 اور 5355 میں بیان ہے۔ ویسے بھی "صورۃ" چہرے کو کہا جاتا ہے اور چہرہ ذی روح کا ہی ہوتا ہے۔ سخت ترین عذاب کی تفسیر آئندہ احادیث میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5358 سے ماخوذ ہے۔