حدیث نمبر: 5353
حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : صَنَعْتُ طَعَامًا , فَدَعَوْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ ، فَدَخَلَ فَرَأَى سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَخَرَجَ , وَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا ، چنانچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۱؎ ، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں “ ۔

وضاحت:
۱؎: جو جاندار کی تھیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الٔقطعمة 56 (3359)، اللباس 44 (3650) (تحفة الأشراف: 10117) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تصویروں اور مجسموں کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، چنانچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۱؎، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا: " فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5353]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث سے بھی تصویر کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔
(2) اہل علم و فضل کے لیے کھانا تیار کرنا اور انہیں کھانے پر بلانا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خلق اور تواضع پر صریح دلالت کرتی ہے کہ آپ اپنے صحابۂ کرام کی دعوت پر ان کے ہاں کھانا کھانے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔
(4) جس گھر میں تصویر ہو اس میں رحمت کے فرشتے قطعاً داخل نہیں ہوتے، لہٰذا اس سے بڑی محرومی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کے گھر یا اس کی دکان اور کاروباری مرکز میں رحمت کا نزول نہ ہو۔ جب رحمت کے رشتے نہیں آئیں گے تو رحمت کس طرح آئے گی۔
(5) فرشتوں کی جبلت اور فطرت میں اطاعت الہٰی رکھ دی گئی ہے، اس لیے وہ کسی ایسی جگہ جاتے ہیں نہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی ہوتی ہو۔
(6) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں سے کھانا کھائے بغیر ہی واپس چلے گئے کیونکہ وہاں منقش اور تصویروں والا پردہ لٹکا ہوا تھا۔ اولاد یا عزیز و اقارب کو سمجھانے کا یہ انداز نہایت مؤثر ہے، اس لیے جس مجلس و محفل یا گھر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صریح حکم کی مخالفت اور نافرمانی ہو رہی ہو اہل علم، خصوصاً وارثان منبر و محراب کو وہاں نہیں جانا چاہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5353 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5958 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5958. حضرت ابو طلحہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔" (راوی حدیث) بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد ؓ بیمار ہوئے تو ہم ان کی تیمار داری کے لیے گئے ہم نے وہاں دیکھا کہ ان کے دروازے ہر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر تھی۔ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ‬ ؓ ک‬ے پروردہ حضرت عبید اللہ سے کہا: کیا پہلے دن ہمیں ذید ؓ نے تصویروں کے متعلق حدیث نہیں سنائی تھی؟ عبید اللہ نے کہا: کیا تم ان سے یہ نہیں سنا تھا: اگر تصویریں کپڑے پر نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے ابو طلحہ ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5958]
حدیث حاشیہ: عبداللہ بن وہب کی روایت باب بدا الخلق میں موصولاً گزر چکی ہے۔
نووی نے کہا احادیث میں جمع کرنا ضروری ہے اس لیے اس حدیث میں جس میں "إلا رقما في ثوب'' ہے یہ معنی کریں گے کہ کپڑے کی وہ نقشی تصویریں جائز ہیں جو غیر ذی روح کی ہوں جیسے درخت وغیرہ بلکہ غیر ذی روح کی تصویر تو مطلقاً جائز ہے خواہ کپڑے یا کاغذ میں منقوش ہو یا مجسم ہو پھر خاص نقش کا استثناء اس کا کوئی معنی نہ ہوگا۔
ابن عربی نے کہا مجسم تصویر ذی روح کی تو بالاتفاق حرام ہے اور نقشی تصویر اور عکسی فوٹو کی تصاویر میں چار قول ہیں ایک یہ کہ مطلقاً جائز ہے دوسرے یہ کہ مطلقاً منع ہے اور ذی روح تصویروں کے لیے وہ جس طرح بھی تیار کی جائیں یہی قول راجح ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ اگر گردن تک کی ہو یا اتنے بدن کی جس سے وہ ذی روح جی نہیں سکتا ہو جائز ہے ورنہ نہیں۔
چوتھے یہ کہ اگر فرش یا تکیہ پر ہو جس میں اس کی اہانت ہوتی ہے تو جائز ہے اور اگر معلق ہو۔
(جیسے کہ آج کل فوٹو بطور برکت وحسن لٹکائے جاتے ہیں)
تو یہ ہر گز جائز نہیں ہے لیکن لڑکیاں جو گڑیا بنا کر کھیلتی ہیں وہ بالاتفاق درست ہیں۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5958 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5958 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5958. حضرت ابو طلحہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔" (راوی حدیث) بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد ؓ بیمار ہوئے تو ہم ان کی تیمار داری کے لیے گئے ہم نے وہاں دیکھا کہ ان کے دروازے ہر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر تھی۔ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ‬ ؓ ک‬ے پروردہ حضرت عبید اللہ سے کہا: کیا پہلے دن ہمیں ذید ؓ نے تصویروں کے متعلق حدیث نہیں سنائی تھی؟ عبید اللہ نے کہا: کیا تم ان سے یہ نہیں سنا تھا: اگر تصویریں کپڑے پر نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے ابو طلحہ ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5958]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت بسر بن سعید جناب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے عبیداللہ خولانی کے ہمراہ گئے تھے وہاں ان سے سوال کیا جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3226) (2)
واضح رہے کہ "إلا رقما في الثوب" سے مراد وہ تصویر والا کپڑا ہے جو پاؤں تلے روندا جائے یا بچھونے کی طرح اسے نیچے بچھایا جائے تو ایسے کپڑے میں کوئی حرج نہیں۔
دراصل آغاز اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی تصویر سے منع فرمایا تھا کیونکہ لوگوں نے تازہ تازہ تصاویر کی عبادت ترک کی تھی۔
جب لوگ ان تصاویر سے پوری طرح متنفر ہو گئے تو ضرورت کے پیش نظر وہ تصاویر مباح کر دیں جنہیں پاؤں تلے روندا جاتا تھا اور ان کی بے قدری کی جاتی تھی کیونکہ بے قدر چیز کی کوئی بھی عبادت نہیں کرتا اور جو تصویریں ذلیل و خوار نہ ہوں بلکہ عزت و تکریم کے ساتھ انہیں رکھا گیا ہو ان کا حرام ہونا بدستور باقی رہا۔
(عمدة القاري: 15/130) (3)
بہرحال بنیادی بات یہی ہے کہ جاندار اشیاء کی تصاویر اور صلیب یا معبودان باطلہ کے نشانات کو بطور زینت لٹکانا یا اپنے پاس رکھنا جائز نہیں لیکن اگر کپڑے پر یا کسی ایسی حالت میں ہوں جہاں ان کی توہین ہو رہی ہو تو جائز ہے لیکن ان سے پرہیز کرنا پھر بھی افضل ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5958 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3226 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3226. بسر بن سعید اور عبیداللہ خولانی، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ ؓ کے زیر تربیت تھے، ان دونوں سے حضرت زید بن خالد ؓ نے بیان کیا، انھیں حضرت ابو طلحہ ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کسی جاندار کی تصویر ہو۔‘‘ بسر بن سعید نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت زید بن خالد ؓ بیمار ہوگئے تو ہم ان کی تیمارداری کے لیے گئے۔ ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا انھوں نے ہمیں تصاویر کے متعلق خبر نہیں دی تھی؟ عبیداللہ نے جواب دیا کہ انھوں نے کہا تھا کپڑے کے نقوش اس سے استثنیٰ ہیں۔ کیا تم نے یہ الفاظ نہیں سنے تھے؟میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے بتایا: کیوں نہیں، انھوں نے یہ بھی بیان کیاتھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3226]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ فرشتے امور معاصی سے نفرت کرتے ہیں۔
جاندار کی تصویر بنانا بھی عنداللہ معصیت ہے۔
اس لیے جس گھر میں ایسی تصویر ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، وہ گھر رحمت الٰہی سے محروم ہوتا ہے۔
ارشاد نبوی میں جو کچھ وارد ہوا وہ برحق ہے۔
اس میں کرید کرنا بدعت ہے۔
فرشتے روحانی مخلوق ہیں۔
وہ جیسے ہیں ایسے ہی ان کے کارنامے بھی ہیں۔
حضرت زید بن خالد کے گھر میں پردے کے کپڑے پر غیرجاندار تصویریں تھیں جو اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3226 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2106 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہوں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5519]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
تماثيل: تمثال کی جمع ہے، کسی کی نظیر وشبیہ، مورت ہو یا صورت۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5519 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2106 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث سنائی اور میرے ساتھ عبیداللہ خولانی بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔‘‘ بسر کہتے ہیں، حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بیمار ہو گئے تو ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں پردہ دیکھا، جس میں تصاویر تھیں تو میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا، کیا انہوں نے ہمیں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5518]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ممنوعہ تصاویر سے مراد جاندار اشیاء کی تصاویر ہیں اور غیر جاندار اشیاء کی تصاویر درحقیقت نقش و نگار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ محض بے جان نقش یا خطوط ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5518 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2106 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔‘‘ بسر بیان کرتے ہیں، اس کے بعد زید (جس نے مجھے روایت سنائی تھی) بیمار ہو گئے تو ہم ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو ان کے دروازہ پر ایک پردہ پایا، جس میں تصویر تھی تو میں نے (اپنے ساتھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پروردہ عبیداللہ خولانی سے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5517]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
رقم: کا اصل معنی تحریر وکتابت ہوتا ہے، اس لیے اس سے مراد نقش اور بیل بوٹے ہیں۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے، جو کہتے ہیں، وہ تصویر جس کا سایہ نہ ہو یعنی جسم نہ ہو، وہ جائز ہے، لیکن جمہور کے نزدیک اس کا معنی غیر جاندار اشیاء کا نقش ہے، یعنی پھول، کلیاں، درخت وغیرہ کا نقش، کیونکہ رقم کا معنی بقول ابن منظور خُطَط من الوشي بیل بوٹوں کے نقوش اور بقول امام راغب، الخط الغليظ، موٹی دھاری یا موٹا نقش اور بقول ابن اثیر، الرقم، النقش و اصله الكتابة، نقش و نگار اور اس کا اصل معنی لکھنا یا تحریر ہے، اس لیے اس کا معنی تصویر کرنا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5517 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4153 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تصویروں کا بیان۔`
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو۔‏‏‏‏" زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4153]
فوائد ومسائل:
1: اگر اس پردے میں کوئی جاندار تصاویر سمجھی جائیں تو پھاڑ دینے سے زائل ہو گئیں اور انہیں تکیے وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہو گیا۔

2: بے مقصد طور دیواروں پر پردے لٹکانا اسراف اور فضول خرچی ہے جو قطعاحرام ہے۔

3: کتا اگر رکھوالی کے لئے ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔

4: ذی روح اشیا کی تصاویریا ان کے بت گھروں اور دکانوں وغیر ہ میں رکھنے حرام ہیں۔
ان کی وجہ سے رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

5: یہ حدیث غیر شرعی اورمنکر کام کرنے والے کو اس کے سلام جواب نہ دینے پر بھی دلالت کرتی ہے۔

6: یہ حدیث صدیق اکبر کی بیٹی صدیقہ وعفیفہ کائنات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ کی عظمت اور فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ ہر حال میں رسول ؐ کو راضی اور خوش رکھنے کے لئے مستعد رہتی تھیں اور آپ کی رضا مندی آپ کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
۔
۔
۔
۔
۔
اور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4153 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4155 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تصویروں کا بیان۔`
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو۔‏‏‏‏" بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب (پروردہ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی (پھر یہ کیا ہوا؟) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4155]
فوائد ومسائل:
بنیادی بات یہی ہے کہ ذی روح اشیا کی تصویروں اور صلیب یا معبودان باطلہ کے نشانات کو بطور زینت لٹکانا ناجائز ہے، لیکن اگر کپڑے پر یا کسی ایسی حالت میں ہوں جہاں ا ن کی اہانت ہو رہی ہو تو مباح ہے تاہم پچنا پھر بھی افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4155 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 227 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جنبی نہانے میں دیر کرے اس کے حکم کا بیان`
«. . . عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ . . . .»
". . . علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو، یا کتا ہو، یا جنبی ہو . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ: 227]
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں ’’ملائکہ کے داخل نہ ہونے سے مراد" رحمت کے فرشتے ہیں۔ کراماً کا تبین انسان سے جدا نہیں ہوتے اور "تصویر" سے مراد بت اور روح والی اشیاء کی تصویر ہے جبکہ اسے زینت کے لیے لٹکایا گیا ہو۔ اگر اس کی اہانت ہوتی ہو تو ایک حد تک رخصت ہے اور "کتے" سے مراد عام کتا ہے نہ کہ شکاری یا حفاظت والا، کیونکہ یہ جائز ہیں۔ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے جنبی آدمی کی بابت یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس کی وجہ سے فرشتے نہیں آتے۔ تاہم بشرط صحت، اس کی توجیہ یہ ممکن ہے کہ جنبی شخص تساہل کا مظاہرہ کرتے ہوئے غسل نہ کرے اور نمازیں بھی ضائع کر دے، تو کسی گھر میں ایسے جنبی کا وجود یقیناًً ملائکہ رحمت کے آنے میں مانع ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 227 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 262 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جنبی جب وضو نہ کرے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 262]
262۔ اردو حاشیہ: ➊ وضو کرنے سے جنابت ختم تو نہیں ہوتی مگر ایک قسم کی طہارت حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ خصوصاً جنبی کے اعضائے وضو تو پاک ہو ہی جاتے ہیں، لہٰذا جنبی کے لیے آئندہ نماز تک غسل میں رعایت ہے، البتہ وضو کر لے اور یہ افضل ہے جس طرح کہ دیگر احادیث میں آتا ہے۔ اگر شرم گاہ وغیرہ دھو کر بلاوضو بھی سو جائے تو کوئی حرج نہیں اور یہ بھی جائز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو جایا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے انتہائی محققانہ دقیق علمی اسلوب میں تفصیلاً اس حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [شرح الترمذي از أحمد شاکر: 202/1]
، نیز آخر میں انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بااختیار ہے۔ وضو کر کے سونا افضل اور بلاوضو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سو جانا بیان جواز کی خاطر تھا۔ مذکورہ حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے اور یہی بات حق ہے۔ واللہ أعلم۔ اس موقف کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرماتے ہیں: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں (بلاوضو) سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سو سکتا ہے، اگر چاہے تو وضو کر لے۔" گویا وضو کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ دیکھیے: [صحیح ابن خزیمة، حدیث: 221، و موارد الظمآن، حدیث: 232]
مزید دیکھیے: [صحيح موارد الظمآن للألباني، حديث: 195]
➋ فرشتوں سے رحمت کے فرشتے مراد ہیں نہ کہ مطلق فرشتے کیونکہ محافظ فرشتے یا کاتب فرشتے بھی اس حالت میں انسان کے پاس آجاتے ہیں جنابت کے باوجود انسان کے پاس رہتے ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن درست بات یہ ہے کہ ولاجنب، کے اضافے کے بغیر باقی حدیث صحیح ہے کیونکہ صحیحین کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3225، و صحیح مسلم، اللباس والزینۃ، حدیث: 2106، و ضعیف سنن أبي داود (مفصل) للألباني، حدیث: 30) لہٰذا جنبی کے حوالے سے یہ کہنا کہ اس کی وجہ سے رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، درست نہیں کیونکہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ اگرچہ ہمارے فاضل محقق نے پور ی روایت کو قابل حجت سمجھا ہے، تاہم بشرط صحت جنبی سے مراد وہ جنبی ہو گا جو بلاضرورت غسل میں تاخیر کرتا ہے ورنہ نماز کے وقت تک غسل مؤخر کرنے والا اس وعید کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ اس میں رخصت ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سب بیویوں کے پاس جاتے اور غسل آخر میں فرماتے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 262 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4286 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ملائکہ (فرشتے) ۱؎ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو یا کتا ہو یا جنبی (ناپاک شخص) ہو " ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4286]
اردو حاشہ: بلا ضرورت جنبی رہنا بھی قبیح بات ہے۔ جب جنابت طاری ہو جائے تو فوراََ نہانا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو تو آئندہ فرض نماز تک لازمی نہا لینا چاہیے۔ اس سے زائد تا خیر کرنا گناہ کا موجب ہے۔ اصل یہی ہے کہ فوراََ نہائے شرعی اور طبی اعتبار سے یہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4286 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4152 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تصویروں کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی (ناپاک شخص) ہو۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4152]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث نمبر 228 پیچھے گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4152 سے ماخوذ ہے۔