سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّصَاوِيرِ باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَأَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزَعُ نَمَطًا تَحْتَهُ , فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ : لِمَ تَنْزِعُ ، قَالَ : لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ , قَالَ : أَلَمْ يَقُلْ : " إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ " ؟ , قَالَ : " بَلَى , وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي " .
´عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ` وہ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے ، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے ۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے ۔ ان سے سہل نے کہا : اسے کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ بولے ؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں ( مجسمے ) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے ، وہ بولے : کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا : ” اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں “ ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن مجھے یہی بھلا معلوم ہوتا ہے ( کہ میں نقش والی چادر بھی نہ رکھوں ) ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے۔ ان سے سہل نے کہا: اسے کیوں نکال رہے ہیں؟ وہ بولے؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں (مجسمے) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے، وہ بولے: کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا: ” اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5351]
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی الله عنہ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف رضی الله عنہ کو پایا، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل رضی الله عنہ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل رضی الله عنہ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1750]
وضاحت:
1؎:
یعنی رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔