حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ ، فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ ؟ قَالَ : " يُرْخِينَ شِبْرًا " , قَالَتْ : إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ ؟ قَالَ : " فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : پھر عورتیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک بالشت لٹکائیں “ ، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ! آپ نے فرمایا : ” پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، (تحفة الأشراف: 18282)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/295)، سنن الدارمی/الإستئذان 16 (2686) (صحیح)»