سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي جَرِّ الإِزَارِ باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5329
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ . ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ , أَوْ قَالَ : إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تکبر ( گھمنڈ ) سے اپنا کپڑا ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکایا ( یا یوں فرمایا : جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔" [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
اردو حاشہ: "اپنا کپڑا" گویا ازار کے علاوہ قمیص یا چادر کو بھی زمین پر گھسیٹنا جائز نہیں جب کہ بعض فقہاء نے یہاں کپڑے سے مراد تہبند ہی لیا ہے۔ گویا قمیص لٹکا سکتا ہے مگر یہ اس صریح اور واضح حکم شریعت کے خلاف ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5329 سے ماخوذ ہے۔