سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : لُبْسِ الْبُرُودِ باب: چادریں اوڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5322
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ : " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ " , فَقُلْنَا : أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی ) شکایت کی ، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے کہا : کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے ؟ ۔
وضاحت:
۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´چادریں اوڑھنے کا بیان۔`
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے؟۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5322]
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے؟۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5322]
اردو حاشہ: (1) ترجمتہ الباب کےساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بنتی ہے کہ ایسی دھاری دار چادر کو بطور تکیہ استعمال کیا۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے جو چادر بطور تکیہ استعمال ہو سکتی ہے وہ پہنی بھی جاسکتی ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس چیز پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ دعوت الی اللہ اور تبلیغ دین میں بے پناہ مشکلات اور آزمائشیں آ سکتی ہیں لہٰذا ایسی صورت حال درپیش ہو توصبر کا دامن کسی بھی صورت میں ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ کی راہ میں مقدر بننے والی مشکلات پر صبر کرنے والوں کو عزت و نصرت او رمحبت الہٰی کی بشارت مبارک ہو۔
(3) رویت طویل ہے۔ مصنف رحمہ اللہ نے متعلقہ حصے کا ذکر فرما دیا۔
(4) ”سیاہ دھاری دار چادر“ یہ ترجمہ ہے عربی لفظ بردۃ کا۔یہ چادریں ایسی ہوتی تھیں۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس چیز پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ دعوت الی اللہ اور تبلیغ دین میں بے پناہ مشکلات اور آزمائشیں آ سکتی ہیں لہٰذا ایسی صورت حال درپیش ہو توصبر کا دامن کسی بھی صورت میں ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ کی راہ میں مقدر بننے والی مشکلات پر صبر کرنے والوں کو عزت و نصرت او رمحبت الہٰی کی بشارت مبارک ہو۔
(3) رویت طویل ہے۔ مصنف رحمہ اللہ نے متعلقہ حصے کا ذکر فرما دیا۔
(4) ”سیاہ دھاری دار چادر“ یہ ترجمہ ہے عربی لفظ بردۃ کا۔یہ چادریں ایسی ہوتی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5322 سے ماخوذ ہے۔