حدیث نمبر: 5315
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ . ح ، وأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ عُمَرَ : " أَنَّهُ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الدِّيبَاجِ إِلَّا مَوْضِعَ أَرْبَعِ أَصَابِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے دیباج کی اجازت صرف چار انگلی تک دی گئی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی چار انگل دیباج کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن الترمذی/اللباس 1 (1721)، (تحفة الٔاشراف: 10459)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجھاد 21 (2820) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیباج کی اجازت صرف چار انگلی تک دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5315]
اردو حاشہ: سابقہ روایت میں دو انگلی کا ذکر تھا اس میں چار کا ہے۔ جمہور اہل علم چار انگلی کی پٹی کو جائز سمجھتے ہیں، زیادہ کو نہیں کیونکہ اس سے زائد کی اجازت مروی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5315 سے ماخوذ ہے۔