حدیث نمبر: 5310
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ سَنَةَ سَبْعٍ وَمِائَتَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ : أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِينِي , فَقُلْتُ لَهَا : هَذَا ابْنُ عُمَرَ : , فَاتَّبَعَتْهُ تَسْأَلُهُ , وَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا يَقُولُ , قَالَتْ : أَفْتِنِي فِي الْحَرِيرِ ؟ , قَالَ : " نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا : یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں ، ( ان سے پوچھ لو ) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں ، وہ بولی : مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 7350) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔`
علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا: یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی: مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5310]
اردو حاشہ: منع فرمایا ہے یعنی مردوں کو نہ کہ عورتوں کہ جیسے کہ صحیح اور صریح احادیث گزر چکی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5310 سے ماخوذ ہے۔