حدیث نمبر: 5307
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں ریشم پہنا ، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے ، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس 25 (5834)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 10483)، مسند احمد (1/46) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5833 | صحيح البخاري: 5834 | صحيح مسلم: 2069 | سنن نسائي: 5308

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5307]
اردو حاشہ: اپنی عورتوں کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس حکم کو عام سمجھتے تھے جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ریشم کی حرمت کا حکم مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ صحیح اور صریح احادیث اس تخصیص پر دلالت کرتی ہیں یہ صرف حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا موقف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5307 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2069 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو ذیبان خلیفہ بن کعب بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خطبہ میں یہ کہتے ہوئے سنا: خبردار! اپنی عورتوں کو ریشمی لباس نہ پہناؤ، کیونکہ میں نے عمر بن خطاب کو یہ کہتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے اسے پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5410]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے عموم سے یہ سمجھتے تھے کہ ریشم مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے حرام ہے، بعض صحابہ اور تابعین کا یہی موقف تھا، لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے کہ آپ نے حضرت علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ ریشمی جوڑے کے دو پٹے بنا کر عورتوں کو دے دیں اور سنن اور منصور احمد کی روایت ہے، جسے ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے، کہ آپ نے ریشم اور سونے کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا اور عورتوں کے لیے حلال ٹھہرایا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2069 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5308 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔`
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ابوحفص (عمر) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5308]
اردو حاشہ: (1) عمران بن حطان معتبر راوی ہیں۔ خارجی مذہب رکھتے تھے۔ بقول بعض بعد میں تائب ہو گئے۔ بالفرض تائب نہ بھی ہوئے ہوں تو بھی سچے آدمی کی بات معتبر ہونی ہے چاہے کسی عقیدے پر ہو بشرطیکہ اپنے مخصوص عقیدے کی حمایت میں بیان نہ کرے۔
(2) صحابہ کا سائل کو ایک دوسرے کے پاس بھیجنا اس حسن ظن کی بنا پر ہے کہ دوسرا صحابی مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے اور یہ حسن ظن علم کی دلیل ہے ورنہ علم پندار (غرور) بسا اوقات عالم کولے ڈوبتا ہے۔ أعاذنا اللہ منه.
(3) ابو حفص یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے جو ان کی بڑی بیٹی حضرت حفصہ ؓ ام المومنین کی نسبت سے مشہور ہوئی۔ عرب میں کنیت سے ذکرکرنا احترام کی علامت ہوتا تھا۔
(4) کوئی حصہ نہیں یہ الفاظ بطور زجر و توبیح اور ڈانٹ کےہیں۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں ہوتے۔ دیگر احادیث اس تاویل کی تائید کرتی ہیں۔ کسی ایک حدیث کو باقی احادیث سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مسئلے کے بارے میں آنے والی تمام روایات کوملا کر نتیجہ نکالاجاتا ہے۔ (مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے، احادیث:5297، 5306)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5308 سے ماخوذ ہے۔