سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ نَسْخِ ذَلِكَ باب: دیبا نامی ریشم پہننے کی اباحت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ ، فَقِيلَ لَهُ : قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " . فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ . قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ " ، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی ، فرمایا : ” مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے “ ، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے : اللہ کے رسول ! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی ؟ فرمایا : ” میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی ، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے “ ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: ” مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے “، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: ” میں نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]