مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5268
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : " نُهِيتُ عَنِ الثَّوْبِ الْأَحْمَرِ ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے لال کپڑے ، سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سند میں علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، جب کہ اکثر روایات میں اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جیسا کہ متعدد سن دوں سے گزرا، نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔ اسی لیے امام مزی نے ابن عباس کی علی سے روایت کو محفوظ کہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4055

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے لال کپڑے، سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5268]
اردو حاشہ: سرخ کپڑا بعض محققین کا قول ہے کہ مرد کے لیے خالص سرخ کپڑا پہننا منع ہے۔ صرف سرخ دھاریاں ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ یا مطلق سرخ مراد نہیں بلکہ معصفر اور مزعفر مراد ہیں جن کی حرمت کا ذکر دوسری احادیث میں ہے۔ سرخ کی باقی اقسام جائز ہیں۔ واللہ أعلم۔ (باقی تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث: 5175)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5268 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4055 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کپڑے پر ریشمی بیل بوٹوں اور ریشمی دھاگوں کا استعمال جائز ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4055]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لئے اس کے آخری حصے ریشمی دھاگے سے کڑھائی ہوئی ہو یہ ثابت ہونے والا استثنا صحیح نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4055 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔