سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ لُبْسِ الذَّهَبِ باب: مردوں کے لیے سونا پہننے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5267
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَيَزِيدُ ، وَمُعْتَمِرٌ , وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرَ ، وَالذَّهَبَ ، وَحَرَّمَهُ عَلَى ذُكُورِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا ، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مردوں کے لیے سونا پہننے کی حرمت کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5267]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5267]
اردو حاشہ: عورتوں کے لیے سونا پہننا حلال ہے مگر سونا چاندی کے برتنوں کا استعمال مرد وعورت سب کےلیے منع ہے کیونکہ یہ قطعاً غیر ضروری ہے اور سوائے فخر و نمائش کے اس کا کوئی مقصد نہیں۔ نہیں زیورات بھی صرف زینت کی حد تک عورت استعمال کر سکتی ہے فخر و مباہات کے لیے نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے احادیث: 5139 سے 5146 تک)۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5267 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1906 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مشک کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
1906۔ اردو حاشیہ: کستوری کے بارے میں اشکال یہ ہو سکتا ہے کہ کستوری تو دراصل ہرن کا خون ہے جس کا استعمال جائز نہیں، مگر کوئی چیز جب قدرتی طور پر تبدیل ہو جائے اور اس میں پہلے اثرات بالکل ختم ہو جائیں تو اس کا حکم بدل جائے گا۔ کستوری بھی کسی لحاظ سے خون کے اوصاف نہیں رکھتی، لہٰذا اس کا حکم خون سے مختلف ہو گا۔ خون بھی تو خوراک سے بنتا ہے مگر اسے خوراک کا حکم حاصل نہیں۔ اسی طرح غلہ جات اور سبزیاں بھی تو مٹی اور گوبر وغیرہ ہی سے بنتی ہیں مگر ان پر اصل کا حکم نہیں لگتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1906 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1720 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ریشم اور سونے کے حکم کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1720]
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1720]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں، حرمت کی کئی وجہیں ہیں: کفار ومشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے، زیب وزینت عورتوں کا خاص وصف ہے، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے، حالاں کہ سادگی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے، آپ کا ارشاد ہے ’’البذاذة من الإيمان‘‘ یعنی سادہ اور بے تکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیاجائے، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیوں کہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔
وضاحت:
1؎:
مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں، حرمت کی کئی وجہیں ہیں: کفار ومشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے، زیب وزینت عورتوں کا خاص وصف ہے، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے، حالاں کہ سادگی رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے، آپ کا ارشاد ہے ’’البذاذة من الإيمان‘‘ یعنی سادہ اور بے تکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیاجائے، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیوں کہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1720 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3158 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´میت کو کستوری لگانا۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3158]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3158]
فوائد ومسائل:
میت کو کوئی بھی عمدہ خوشبو لگانا مستحب ہے۔
تاہم کستوری ہوتو بہتر ہے۔
میت کو کوئی بھی عمدہ خوشبو لگانا مستحب ہے۔
تاہم کستوری ہوتو بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3158 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 420 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´لباس کا بیان`
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لئے حلال کر دیا گیا ہے اور ان کے مردوں پر حرام۔ ‘‘ اسے احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 420»
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لئے حلال کر دیا گیا ہے اور ان کے مردوں پر حرام۔ ‘‘ اسے احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 420»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، اللباس، باب ما جاء في الحرير والذهب، حديث:1720، والنسائي، الزينة، حديث:5151، وأحمد:4 /392.»
تشریح: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے سونا پہننا بصورت زیور جائز ہے مگر ترغیب نہیں‘ اسی طرح خواتین کو ریشم کے استعمال کی بھی اجازت ہے۔
«أخرجه الترمذي، اللباس، باب ما جاء في الحرير والذهب، حديث:1720، والنسائي، الزينة، حديث:5151، وأحمد:4 /392.»
تشریح: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے سونا پہننا بصورت زیور جائز ہے مگر ترغیب نہیں‘ اسی طرح خواتین کو ریشم کے استعمال کی بھی اجازت ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 420 سے ماخوذ ہے۔