سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : الطِّيبِ باب: خوشبو کا بیان۔
حدیث نمبر: 5264
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيَّتُكُنَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تَقْرَبَنَّ طِيبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( عورتوں ) میں سے جو کوئی مسجد کو جائے تو وہ خوشبو کے نزدیک بھی نہ جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´خوشبو کا بیان۔`
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم (عورتوں) میں سے جو کوئی مسجد کو جائے تو وہ خوشبو کے نزدیک بھی نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5264]
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم (عورتوں) میں سے جو کوئی مسجد کو جائے تو وہ خوشبو کے نزدیک بھی نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5264]
اردو حاشہ: جب مسجد میں جاتے وقت خوشبو کی اجازت نہیں حالانکہ وہ مقدس جگہ ہے تو بازار یا لوگوں کے گھروں یا کھیتوں میں جاتے وقت خوشبو کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5264 سے ماخوذ ہے۔