حدیث نمبر: 5250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ ، وَالزُّورُ : الْمَرْأَةُ تَلُفُّ عَلَى رَأْسِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا ، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت ( بال زیادہ دکھانے کے لیے ) سر پر کچھ لپیٹ لے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´چیتھڑے سے بال جوڑنے کا بیان۔`
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت (بال زیادہ دکھانے کے لیے) سر پر کچھ لپیٹ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5250]
اردو حاشہ: لپیٹ لے تاکہ زیادہ معلوم ہوں۔ مقصد دوسروں کو دھوکا دینا ہوتا ہے یا اپنے حسن میں اضافہ اور یہ دونوں چیزیں منع ہیں۔ دھوکا دہی بھی اور تکلف کے ساتھ حسن میں اضافہ بھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5250 سے ماخوذ ہے۔