سنن نسائي
كتاب الزاينة (من المجتبى)— کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : تَصْفِيرِ اللِّحْيَةِ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ باب: ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5246
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ " , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر ۵۰۸۸۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
اردو حاشہ: (1) ”سبتی جوتے“ دباغت شدہ چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو کہتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ عرب میں بالوں سمیت چمڑے کے جوتوں کا بھی رواج تھا۔ ان کے مقابلے میں سبتی جوتوں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ ﷺ کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ ﷺ کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5246 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 117 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔`
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
117۔ اردو حاشیہ: ➊ ’’جوتوں میں وضو“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوتے پہنے ہوئے ہوں اور وہ بند نہ ہوں بلکہ چپل نما ہوں جن میں وضو کیا جا سکتا ہو تو پاؤں کو دھونا ضروری ہے۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 117 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3626 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خضاب میں زرد رنگ کے استعمال کا بیان۔`
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: ڈاڑھی کا رنگ تبدیل کرنے کے لئے جس طرح مہندی کے ذریعےسے سرخی کرنا جائز ہے اسی طرح زرد رنگ کرنا بھی درست ہے۔
فوائد ومسائل: ڈاڑھی کا رنگ تبدیل کرنے کے لئے جس طرح مہندی کے ذریعےسے سرخی کرنا جائز ہے اسی طرح زرد رنگ کرنا بھی درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3626 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5088 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔`
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مذکورہ قول، سنن نسائی کے مختلف نسخوں میں مختلف انداز میں درج ہے۔ ایک نسخے میں الفاظ ہیں: وهذا اولى بالصواب من حديث ابي قبية۔ ہندی نسخے میں الفاظ ہیں: وهذا ولى بالصواب من الذي قبله۔ ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں: وهذا اولى بالصواب من حديث قبية۔ شارح سنن النسائی علامہ محمد بن علی اتیوبی رحمہ اللہ نے آخری الفاظ کو درست قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍87) واللہ أعلم۔
(2) ”خلوق“ ایک زنانہ خوشبو ہے جو زعفران وغیرہ کو ملا کر بنائی جاتی ہے۔ رنگ زرد سرخ ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ عورتوں کے استعمال میں آتی ہے، اس لیے مردوں کو اس سے روکا بھی گیا ہے۔ شاید بیان جواز کے لیے آپ نے کبھی کبھار ایک آدھ بارا سے استعمال فرمایا ہو۔ مردوں کے لیے اس کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ ہاں کوئی اور خوشبو نہ ملے تو مجبوری کی حالت میں کبھی کبھی استعمال ہوجائے تو گنجائش ہے۔ واللہ أعلم
(2) ”خلوق“ ایک زنانہ خوشبو ہے جو زعفران وغیرہ کو ملا کر بنائی جاتی ہے۔ رنگ زرد سرخ ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ عورتوں کے استعمال میں آتی ہے، اس لیے مردوں کو اس سے روکا بھی گیا ہے۔ شاید بیان جواز کے لیے آپ نے کبھی کبھار ایک آدھ بارا سے استعمال فرمایا ہو۔ مردوں کے لیے اس کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ ہاں کوئی اور خوشبو نہ ملے تو مجبوری کی حالت میں کبھی کبھی استعمال ہوجائے تو گنجائش ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5088 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4210 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پیلے رنگ کے خضاب کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
فوائد ومسائل:
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4210 سے ماخوذ ہے۔