حدیث نمبر: 5244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ابوبکر کے والد ) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے ، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے بالوں کا رنگ بدلو “ ، یا ( فرمایا ) ” خضاب لگاؤ “ ۔

وضاحت:
۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بالوں میں خضاب لگانے کے حکم کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے بالوں کا رنگ بدلو ، یا (فرمایا) خضاب لگاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5244]
اردو حاشہ: ثغامة پہاڑ کی چوٹی پر اگنے والی گھاس جس کے پھل اور پھول بلکل سفید ہوتے ہیں نیز خشک ہونے پر اس کی سفیدی اور بڑھ جاتی ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیے، حدیث: 5079۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5244 سے ماخوذ ہے۔