حدیث نمبر: 5225
أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ , فَقَالَ : " أَلَكَ مَالٌ ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ الْمَالِ ، قَالَ : " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا : ” کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! سب کچھ ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 17 (4063)، (تحفة الٔنشراف: 11203)، مسند احمد (4/137)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5296 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔`
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! سب کچھ ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5225]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث اور آئندہ حدیث کا قریبی باب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ کتاب الزینة سے تعلق ہے۔
(2) اثرات نظر آنے چاہئیں یعنی اپنی حیثیت کے مطابق رہنا چاہیے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ایک صورت ہے، نیز امیر آدمی اپنی حیثیت کےمطابق رہے تو سائلین کو سہولت رہے گی ورنہ لوگ اسے مستحق سمجھ کر اس کو زکاۃ پیش کریں گے جو اس کے لیے خجالت کا سبب ہو گی، البتہ اچھے کپڑے پہن کر کسی کو حقیر نہ سمجھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5225 سے ماخوذ ہے۔