حدیث نمبر: 5197
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَرْكَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَالْمَرَاسِيلُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ , وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابن شہاب زہری سے ، اسی طرح مرسلاً روایت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مرسل روایتیں زیادہ قرین صواب ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: سكت عنه الشيخ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند بھی ضعیف ہے، اس لیے کہ ابن شہاب زہری نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، لیکن دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے، اسی طرح مرسلاً روایت ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مرسل روایتیں زیادہ قرین صواب ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5197]
اردو حاشہ: 5193 کی سند نعمان کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کی بعد والی روایت مرسل ہیں اور راجح قول کے مطابق مرسل از قسم ضعیف ہے، تاہم شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر کئی محققین نے اس روایت کے مجموعی طرق اور شواہد کی بنا پر اس روایت کو قابل حجت قرار دیا ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند أحمد:29؍283)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5197 سے ماخوذ ہے۔