مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5178
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ , عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمُعَصْفَرِ ، وَأَنْ لَا أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی ، ریشمی کپڑے اور زرد رنگ کے کپڑے کے استعمال سے اور اس بات سے کہ میں رکوع میں قرآن پڑھوں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2078 | سنن ترمذي: 1737 | سنن ابن ماجه: 3642 | سنن نسائي: 1044 | سنن نسائي: 5179 | سنن نسائي: 5182 | سنن نسائي: 5270 | سنن نسائي: 5320

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1737 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کی حرمت کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» (ایک ریشمی کپڑا) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» (کسم سے رنگے ہوئے زرد) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1737]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1737 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔