مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5174
أَخْبَرَنَا قَتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ لِعَلِيّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْجِعَةِ ، وَعَنْ حِلَقِ الذَّهَبِ ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدِيثُ مَرْوَانَ , وَعَبْدِ الْوَاحِدِ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ` صعصعہ بن صوحان نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیر المؤمنین ! ہمیں اس چیز سے منع فرمائیے جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع فرمایا تو وہ بولے : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو سے بنے ، اور سبز رنگ والے برتن کے استعمال سے اور جو اور گیہوں سے بنی شراب کے پینے سے ، سونے کے چھلے ، ریشمی لباس اور سرخ زین کے استعمال سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مروان اور عبدالواحد کی روایت ( نمبر ۵۱۷۳ و ۵۱۷۴ ) اسرائیل کی روایت ( نمبر ۵۱۷۲ ) سے زیادہ قرین صواب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ صعصعہ بن صوحان نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیر المؤمنین! ہمیں اس چیز سے منع فرمائیے جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع فرمایا تو وہ بولے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو سے بنے، اور سبز رنگ والے برتن کے استعمال سے اور جو اور گیہوں سے بنی شراب کے پینے سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور سرخ زین کے استعمال سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مروان اور عبدالواحد کی روایت (نمبر ۵۱۷۳ و ۵۱۷۴) اسرائیل [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5174]
اردو حاشہ: یعنی مروان بن معاویہ کی بیان کردہ حدیث (5173) اور عبدالواحد کی بیان کردہ حدیث (5174)، اسرائیل کی بیان کردہ حدیث (5172) سے ارجح ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5174 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔