حدیث نمبر: 5168
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ ، وَعَنِ الْجِعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم ، سرخ گدیوں اور گیہوں یا جو کی شراب سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 11 (4051)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2808)، سنن ابن ماجہ/اللباس 46 (3654)، (تحفة الأشراف: 10304)، مسند احمد (1/93، 409، 127، 137)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: (5169، 5170) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، سرخ گدیوں اور گیہوں یا جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5168]
اردو حاشہ: (1) "ریشمی کپڑوں" عربی میں لفظ قسی استعمال کیا گیا ہے۔ قس مصر کے علاقے میں ایک بستی کا نام تھا، جہاں ریشمی کپڑے بنائے جاتے تھے۔ ان کو قسی کہا جاتا تھا۔ مراد ریشمی کپڑے ہیں، قس میں بنیں یا کہیں اور کیونکہ حرمت کی وجہ ریشم ہونا ہے نہ کہ قس بستی میں تیار ہونا۔ دوسری توجیہ یہ کی گئی ہے کہ قس اصل میں قز تھا اور اس کے معنیٰ ہیں کچا ریشم۔ گویا قسی سے مراد کچے ریشم سے بنائے گئے کپڑے ہیں، یعنی ریشم کا استعمال مردوں کے لیے حرام ہے چاہے کچا ہو یا پکا۔
(2) "سرخ ریشمی گدیلوں" ریشمی گدیلے عموماً سرخ ہوتے تھے ورنہ ریشمی گدیلے حرام ہیں، سرخ ہوں یا سبز، سفید ہوں یا سیاہ۔
(3) "جعہ" جو کا نبیذ جس میں نشہ ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5168 سے ماخوذ ہے۔