حدیث نمبر: 5165
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : وَكَانَ جَدُّهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَأَى جَدَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ فِضَّةٍ ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ , فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَهُ مِنْ ذَهَبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے دیکھا کہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کے دادا ( عرفجہ بن اسد رضی اللہ عنہ ) کی ناک کٹ گئی ، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی ، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنوا لیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1770 | سنن ابي داود: 4232 | سنن نسائي: 5166

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1770 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دانتوں کو سونے سے باندھنے کا بیان۔`
عرفجہ بن اسعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ۱؎ (ایک لڑائی) کے دن میری ناک کٹ گئی، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ۲؎۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے، [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1770]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عرب کے مشہور جنگوں میں سے ایک جنگ کا نام ہے۔

2؎:
اسی سے استدلال کرتے ہوئے علماء کہتے ہیں کہ اشد ضرورت کے تحت سونے کی ناک بنانا اور سونے کے تار سے دانت باندھنا صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1770 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4232 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سونے سے دانت بندھوانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4232]
فوائد ومسائل:
(کلاب) کاف پر پیش کے ساتھ۔
کو فہ اور بصرہ کے ما بین ایک جگہ کا نام ہے۔
دورِ جاہلیت میں یہاں دو معرکے ہو ئے تھے۔
ایک بار بنوبکر اور بنو تغلب کے درمیان اور دوسری بار بنو تمیم اور اہلِ حجر کے مابین رن پڑا تھا۔
عرفجہ اس دوسری بار میں شریک ہو ئے تھے۔
اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ سونے کے دانت وغیرہ بنوانا جائز ہے۔
خواہ مرد بنوائے یا عورت مگر زیور صرف عورت کے لیئے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4232 سے ماخوذ ہے۔