حدیث نمبر: 5162
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ " ؟ فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَنَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا " ، قَالُوا : نَعَمْ . خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ رَوَاهُ , عَنْ بَيْهَسٍ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ` میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، ان کے اردگرد مہاجرین و انصار کے کچھ لوگ تھے ، معاویہ نے ان سے کہا : کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ بولے : اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ، مگر جب «مقطع» ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) علی بن غراب نے نضر بن شمیل کے خلاف اس حدیث کو بیھس سے انہوں نے ابوشیخ سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2817 | سنن ابن ماجه: 3601 | سنن ابن ماجه: 3643 | سنن نسائي: 5311

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3601 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3601]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
  معصفر کا مطلب ہے عصفر سے رنگا ہوا۔
وہ ایک زرد رنگ کی چیز ہے جس سے کپرے رنگے جاتےہیں۔ (محمد فواد عبدالباقی بحوالہ المنجد)
لیکن انہوں نے (المفدم)
 کی تشریح یوں کی ہے: انتہائی سرخ۔
گویا وہ اتنا زیادہ سرخ ہے کہ مزید سرخ نہیں ہو سکتا۔
ممکن ہے کسم کا پودا زرد ہونے کے باوجود اس سے رنگا ہوا کپڑا سرخ ہو جاتا ہو۔

(2)
گہرے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا اگر ہلکے رنگ کا ہو تو مردوں کے لیے جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3601 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5311 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ریشمی کپڑوں کے پہننے کی ممانعت کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
اردو حاشہ: (1) قسی کپڑوں اور ریشمی گدیلوں کی تفصیل کےبارے میں ملاحظہ فرمائیں، احادیث:5168، 5169۔
(2) موٹے، باریک اور عام ریشم عربی میں استبرق، دیباج اور حریر کے لفظ آئے ہیں۔ یہ تینوں ریشم کی اقسام ہیں۔ تفصیل احادیث 5301، 5302 میں گزر چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کے ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا مگر یہ نہی مردوں کےلیے ہے البتہ چاندی کے برتنوں اور ریشمی گدیلوں سے نہی سے مرد وعورت سب کے لیے ہے کیونکہ یہ مشترکہ استعمال کی اشیاء ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5311 سے ماخوذ ہے۔