حدیث نمبر: 5138
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَبُو طَاهِرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ " اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ , وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے ، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دھونی لیتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/ألفاظ من الأدب 5 (2254)، (تحفة الأشراف: 7605) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عود کی دھونی کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دھونی لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5138]
اردو حاشہ: بخور بخار سے ہے۔ چونکہ خوشبو دار لکڑی کو سلگانے سے بخارات اٹھتے ہیں جن سے خوشبو پھیلتی ہے، لہٰذا اس قسم کی خوشبو کو بخور کہہ دیتے ہیں ورنہ بخور کسی ایک چیز کا نام نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5138 سے ماخوذ ہے۔