حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الصَّلَاةَ ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: بسر سے زہری کا راوی ہونا غیر محفوظ ہے، ان کی جگہ بکیر کا ہونا محفوظ ہے، بہرحال روایت محفوظ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔`
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5137]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ  کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ روایت بسند عن الزہری عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ درست نہیں بلکہ صحیح روایت بایں سند ہے: عن بکیر عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ کیونکہ حفاظ محدثین رحہم اللہ نے یہ روایت اسی طرح (بکیر کی سند سے) بیان کی ہے۔ زہری کی سند سے بیان کرنے والا سعید ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5137 سے ماخوذ ہے۔