حدیث نمبر: 5135
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَهَا أَنْ لَا تَمَسَّ الطِّيبَ إِذَا خَرَجَتْ إِلَى الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ” جب عشاء کے لیے مسجد جائیں تو خوشبو نہ لگائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔`
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ جب عشاء کے لیے مسجد جائیں تو خوشبو نہ لگائیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5135]
اردو حاشہ: اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ باقی نمازوں میں وہ خوشبو لگا کر آ سکتی ہے بلکہ عشاء کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ وقت عورتوں کے خوشبو لگانے کا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث نمبر5131 میں بیان ہوا، نیز حدیث نمبر5137 میں عام نماز کا ذکر ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے عورتیں اس وقت زیادہ حاضر ہوتی ہوں جیسا کہ فجر میں آتی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5135 سے ماخوذ ہے۔