سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْىِ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَشْهَدَ الصَّلاَةَ إِذَا أَصَابَتْ مِنَ الْبَخُورِ باب: عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔
حدیث نمبر: 5133
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدِيثُ يَحْيَى , وَجَرِيرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے ، واللہ اعلم ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جریر کی روایت یہی ہے، اور جریر و یحییٰ کی مشترکہ روایت نمبر ۵۲۶۲ پر آ رہی ہے، مؤلف کا مقصد یہ ہے زینب رضی اللہ عنہا کی روایت میں ” بسر بن سعید “ سے روایت کرنے والے ” بکیر “ کا ہونا یعقوب بن عبداللہ کے بالمقابل زیادہ قرین صواب بات ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔`
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5133]
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5133]
اردو حاشہ: ہمارے سامنے جو نسخہ ہے اس میں یہی ہے کہ یحییٰ اور جریر کی حدیث وہیب بن خالد کی حدیث کی نسبت زیادہ درست ہے۔ اس میں جریر کی حدیث تو موجود ہے، (حدیث 5133 جبکہ یحییٰ کی حدیث اس نسخے میں نہیں۔ شاید کاتب اور ناسخ سے یحییٰ کی روایت رہ گئی ہے اور وہ لکھ نہیں سکا۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5133 سے ماخوذ ہے۔