حدیث نمبر: 5132
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے ( مسجد ) آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 30 (443)، (تحفة الأشراف: 15888)، مسند احمد (6/363) ویأتي وبأرقام: 5133- 5137، 5262-5264) (حسن، صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔`
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے (مسجد) آئے تو خوشبو نہ لگائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5132]
اردو حاشہ: معلوم ہوا کہ اگر گھر سے باہر نہ جانا ہو تو عورت اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5132 سے ماخوذ ہے۔