حدیث نمبر: 5126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے ، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے ، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے ۔ ( عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے ۔ )

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: سكت عنه الشيخ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔`
اس سند سے بھی یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
اردو حاشہ: سفیان بن عیینہ اور شعبہ، دونوں نے یہ روایت عطاء بن سائب سے بیان کی ہے لیکن سفیان بن عیینہ نے شعبہ کی مخالفت کی ہے اور وہ اس طرح کہ جب سفیان نے عطاء بن سائب سے بیان کیا تو کہا: عن عطاء بن السائب، عبداللہ بن حفص یعنی سفیان نے عطاء کا استاد عبداللہ بن حفص کہا ہے جبکہ امام شعبہ کو عطاء بن سائب کے استاد کے نام میں تردد ہے، کبھی ابو حفص بن عمرو، کبھی حفص بن عمرو اور بسا اوقات وہ ابن عمرو کہتے ہیں۔ واللہ أعلم. مزید تفصیل کےلیے دیکھئے (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأ تیوبي: 38؍167۔168)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5126 سے ماخوذ ہے۔