حدیث نمبر: 5123
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ " , ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ " , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا : ” جاؤ اور اسے دھو ڈالو “ ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” : ” جاؤ اسے دھو ڈالو “ ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے دھو ڈالو ، پھر آئندہ نہ لگانا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عمران بن ظبيان: ضعيف، ورمي بالتشيع،تنا قض فيه ابن حبان (تقريب: 5158) وضعفه الجمهور. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12271) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا: جاؤ اور اسے دھو ڈالو ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو۔‏‏‏‏ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو، پھر آئندہ نہ لگانا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5123]
اردو حاشہ: خلوق یہ رنگ دار خوشبو ہوتی ہے جسے زعفران وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5123 سے ماخوذ ہے۔