حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 9536)، مسند احمد (1/416، 417)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5111، 5112) (حسن صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والی عورتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5110]
اردو حاشہ: حدیث نمبر 5094 میں گزرا کہ جاہلیت میں عورتیں اپنے دانتوں کو ریتی سے رگڑ رگڑ کر باریک کرتی تھیں۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ دانت الگ الگ نظر آئیں۔ اسی بات کو اس حدیث میں بہ تکلف دانتوں کو کشادہ کرنا کہا گیا ہے۔ یہ حرام ہے۔ ایک تو اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ خوب صورتی کے لیے اتنا زیادہ تکلف کرنا مفت کی درد سری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5110 سے ماخوذ ہے۔