سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُوتَشِمَاتِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ وَالشَّعْبِيِّ فِي هَذَا باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُوتَشِمَةَ ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ " , وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ صَاحِبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے ، سود کی گواہی دینے والے ، سود کا حساب لکھنے والے پر ، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ، اور نوحہ سے منع فرمایا ، ( اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر ) لعنت کا ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود کی گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، اور نوحہ سے منع فرمایا، (اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر) لعنت کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5108]
شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود کی گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، اور نوحہ سے منع فرمایا، (اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر) لعنت کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5108]
اردو حاشہ: ”رنگ بھرنے والی“ یہ فعل حرام ہے عورت کرے یا مرد۔ چونکہ عموماً عورتیں یہ کام کرتی تھیں، اس لیے مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5108 سے ماخوذ ہے۔