سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِذْنِ بِالْخِضَابِ باب: خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5077
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ " . وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو “ ، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عروہ کبھی اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کرتے ہیں، اور کبھی زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے، اور کبھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے، اسی وجہ سے مؤلف نے ” غیر محفوظ “ کہا ہے، جب کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ عروہ نے تینوں سے یہ روایت کی ہو، نیز اس کے صحیح شواہد موجود ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔`
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو “، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5077]
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو “، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5077]
اردو حاشہ: بالوں سے مراد سر، ڈاڑھی اور مونچھوں کے سب بال ہیں، اس لیے تمام بالوں کی بابت حکم یہی ہے، نیز یہ بھی یاد رہے کہ دیگر احکام کی طرح اس حکم میں بھی عورتیں مردوں کے تابع ہیں، یعنی انہوں نے اپنے سفید بال رنگنےہوں تو وہ بھی انہیں کالے رنگ سے نہ رنگیں بلکہ کسی اور رنگ ہی سے رنگیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5077 سے ماخوذ ہے۔