حدیث نمبر: 5068
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْنُ مِنِّي ، فَدَنَا مِنْهُ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا : ” میرے قریب آؤ “ ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5068
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3415) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔`
حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے قریب آؤ ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
اردو حاشہ: ذُؤَابهِ مینڈھی کو بھی کہتے ہیں، یعنی گندھے ہوئے بال۔ اور لٹکتے ہوئےبالوں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جنہیں زلفیں بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے زلفیں ان بالوں کو کہا جاتا ہے جو چہرے پر لٹکتے ہوں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5068 سے ماخوذ ہے۔