حدیث نمبر: 5061
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ ، قَالَ : مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ ؟ قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ " ، قُلْنَا : وَمَا الْإِرْفَاهُ ، قَالَ : " التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے ، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا ، تو انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں ؟ وہ بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں «ارفاہ» سے منع فرماتے تھے ، ہم نے کہا : «ارفاہ» کیا ہے ؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9747، 15611) ویأتی عندہ برقم: 5241 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ایک دن چھوڑ کر (بالوں میں) کنگھی کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں؟ وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں «ارفاہ» سے منع فرماتے تھے، ہم نے کہا: «ارفاہ» کیا ہے؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5061]
اردو حاشہ: ٹیپ ٹاپ تو وسیع مفہوم رکھتا ہے اور ہر روز کنگھی کرنا اس میں داخل ہے نہ کہ یہ اس کے معنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5061 سے ماخوذ ہے۔