سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّرَجُّلِ غِبًّا باب: ایک دن چھوڑ کر (بالوں میں) کنگھی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5059
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4159 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(کبھی کبھار کنگھی کرنے کا بیان)۔`
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پابندی سے) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4159]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پابندی سے) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4159]
فوائد ومسائل:
اس روایت کی کی سند میں کچھ ضعف ہے، تاہم وہ سنن نسائی کی صحیح روایت سے دور ہو جاتا ہے جس میں ہے۔
اللہ کے بنی ﷺہمیں اِرفاہ سےمنع فرماتے تھے ہم نے پوچھا اِرُفاہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا روزانہ کنگھی کرنا۔
گویا روزانہ کنگھی کرنا اور بننا سنورنا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں مسلمان مرد یا عورت کا اپنی زیب و زینت میں ہی مگن رہنا شرعی ذوق و مزاج کے خلاف ہے اور اس حدیث میں مذکور یہ نفی بالخصوص اس دور کی ثقافت کے پیشِ نظر ہے، وہ لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور اُنھیں کھولنے سنوارنے میں خاص محنت کرنی پڑتی تھی اور وقت بھی بہت صرف ہو تا تھا۔
اور آج کل بھی عورتوں میں ہی نہیں مردوں میں بھی بناؤ سنگھار کا شوق اور رواج روز افزوں ہے اس لیئے بننے سنورنے کا یہ شوقِ فراواں یقیناََ ناپسندیدہ ہے، نیز افراط و تبزیر کا بھی مصداق ہے جو ایک شیطانی کام ہے، اس لیئے اس کی اجازت ضرور ہے، مگر اعتدال لے ساتھ اور ایک سن چھوڑ کر۔
اس روایت کی کی سند میں کچھ ضعف ہے، تاہم وہ سنن نسائی کی صحیح روایت سے دور ہو جاتا ہے جس میں ہے۔
اللہ کے بنی ﷺہمیں اِرفاہ سےمنع فرماتے تھے ہم نے پوچھا اِرُفاہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا روزانہ کنگھی کرنا۔
گویا روزانہ کنگھی کرنا اور بننا سنورنا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں مسلمان مرد یا عورت کا اپنی زیب و زینت میں ہی مگن رہنا شرعی ذوق و مزاج کے خلاف ہے اور اس حدیث میں مذکور یہ نفی بالخصوص اس دور کی ثقافت کے پیشِ نظر ہے، وہ لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور اُنھیں کھولنے سنوارنے میں خاص محنت کرنی پڑتی تھی اور وقت بھی بہت صرف ہو تا تھا۔
اور آج کل بھی عورتوں میں ہی نہیں مردوں میں بھی بناؤ سنگھار کا شوق اور رواج روز افزوں ہے اس لیئے بننے سنورنے کا یہ شوقِ فراواں یقیناََ ناپسندیدہ ہے، نیز افراط و تبزیر کا بھی مصداق ہے جو ایک شیطانی کام ہے، اس لیئے اس کی اجازت ضرور ہے، مگر اعتدال لے ساتھ اور ایک سن چھوڑ کر۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4159 سے ماخوذ ہے۔