حدیث نمبر: 5052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزينة من السنن / حدیث: 5052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الحج 75 (914)، (تحفة الأشراف: 10085)، 18617) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت کو سر منڈانے سے ممانعت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5052]
اردو حاشہ: اسلام اور انسانی فطرت کا تقاضاہ ہے کہ مرد اور عورت ظاہری امور میں مشابہت نہ رکھیں بلکہ دور سے ہی امتیاز ہونا چاہیے کہ یہ مرد ہے اور یہ عورت۔ مرد کے لیے شریعت نے سرمونڈنا اور بال کٹوانا جائز قرار دیا ہے، جبکہ عورت کے لیے نہ سر منڈوانا جائز ہے نہ بال کٹوانا ہی تاکہ مرد کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس کے علاوہ لمبے بال مرد کے کام کاج میں بھی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ سرڈھانپنے کی وجہ سے عورت کے لیے لمبے بال کوئی مسئلہ نہیں، اس لیے بال کٹوانا یا منڈوانا مردوں کے ساتھ خاص کردیا گیا اور سرکے بال رکھنا عورتوں کے ساتھ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5052 سے ماخوذ ہے۔