سنن نسائي
كتاب الزينة من السنن— کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
بَابُ : إِحْفَاءِ الشَّارِبِ باب: مونچھیں کٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5049
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5892 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´داڑھی چھوڑنا مونچھیں کتروانا`
«. . . عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ . . .»
”. . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ: 5892]
«. . . عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ . . .»
”. . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ: 5892]
تخريج الحديث:
[146۔ البخاري فى: 77 كتاب اللباس: 64 باب تقليم الاظفار 5892، مسلم 259، أبوداود 4199]
لغوی توضیح:
«وَفِّرُوْا» وافر کرو، بڑھاؤ۔
«اللِّحَي» جمع ہے «لِحْيَة» کی، معنی ہے داڑھی۔
«اَحْفُوْا» پوری طرح پست کرو۔
[146۔ البخاري فى: 77 كتاب اللباس: 64 باب تقليم الاظفار 5892، مسلم 259، أبوداود 4199]
لغوی توضیح:
«وَفِّرُوْا» وافر کرو، بڑھاؤ۔
«اللِّحَي» جمع ہے «لِحْيَة» کی، معنی ہے داڑھی۔
«اَحْفُوْا» پوری طرح پست کرو۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 146 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5892 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5892. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم مشرکین کی مخالفت کرتے ہوئے ڈاڑھی اور مونچھیں کتراؤ۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو ڈاڑھی کو مٹھی سے پکڑتے پھر جو زائد بال ہوتے انہیں کتر دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5892]
حدیث حاشیہ: بعض لوگوں نے اس سے داڑھی کٹوانے کی دلیل لی ہے جو صحیح نہیں ہے۔
اول تو یہ خاص حج سے متعلق ہے۔
دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے لہٰذا صحیح یہی ہو ا کہ داڑھی کے بال نہ کٹوائے جائیں، واللہ أعلم بالصواب۔
اول تو یہ خاص حج سے متعلق ہے۔
دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے لہٰذا صحیح یہی ہو ا کہ داڑھی کے بال نہ کٹوائے جائیں، واللہ أعلم بالصواب۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5892 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5892 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5892. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم مشرکین کی مخالفت کرتے ہوئے ڈاڑھی اور مونچھیں کتراؤ۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو ڈاڑھی کو مٹھی سے پکڑتے پھر جو زائد بال ہوتے انہیں کتر دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5892]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کا عنوان سے کیا تعلق ہے؟ تاحال کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہو کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اس عنوان کی پہلی اور تیسری حدیث ایک ہی ہے۔
کسی راوی نے اسے مختصر بیان کیا ہے جیسا کہ پہلی حدیث ہے اور کچھ راویوں نے اسے تفصیل سے بیان کر دیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے متعلق کوئی معقول توجیہ ذکر نہیں کی۔
علامہ عینی نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ اس حدیث کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں بلکہ اس کا محل عنوان سابق ہے۔
(عمدة القاري: 90/15)
واللہ أعلم (2)
کچھ حضرات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا سہارا لے کر داڑھی کی کانٹ چھانٹ کو جائز خیال کرتے ہیں، لیکن ان کا یہ عمل سنت نبوی کے خلاف ہے، پھر ان کا یہ عمل صرف حج یا عمرے کے موقع پر تھا تاکہ وہ حلق اور قصر کو جمع کر کے دونوں فضیلتیں جمع کریں۔
وہ عام حالات میں اسے معمول نہیں بناتے تھے۔
اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ داڑھی بڑھانے کی حدیث کے راوی بھی ہیں، محدثین کا یہ اصول ہے کہ جب کسی راوی کا عمل اس کی بیان کی ہوئی روایت کے خلاف ہو تو راوی کے عمل کے بجائے اس کی بیان کی ہوئی روایت کا اعتبار ہوتا ہے۔
کتب حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اس کی مزید وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(1)
اس حدیث کا عنوان سے کیا تعلق ہے؟ تاحال کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہو کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اس عنوان کی پہلی اور تیسری حدیث ایک ہی ہے۔
کسی راوی نے اسے مختصر بیان کیا ہے جیسا کہ پہلی حدیث ہے اور کچھ راویوں نے اسے تفصیل سے بیان کر دیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے متعلق کوئی معقول توجیہ ذکر نہیں کی۔
علامہ عینی نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ اس حدیث کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں بلکہ اس کا محل عنوان سابق ہے۔
(عمدة القاري: 90/15)
واللہ أعلم (2)
کچھ حضرات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا سہارا لے کر داڑھی کی کانٹ چھانٹ کو جائز خیال کرتے ہیں، لیکن ان کا یہ عمل سنت نبوی کے خلاف ہے، پھر ان کا یہ عمل صرف حج یا عمرے کے موقع پر تھا تاکہ وہ حلق اور قصر کو جمع کر کے دونوں فضیلتیں جمع کریں۔
وہ عام حالات میں اسے معمول نہیں بناتے تھے۔
اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ داڑھی بڑھانے کی حدیث کے راوی بھی ہیں، محدثین کا یہ اصول ہے کہ جب کسی راوی کا عمل اس کی بیان کی ہوئی روایت کے خلاف ہو تو راوی کے عمل کے بجائے اس کی بیان کی ہوئی روایت کا اعتبار ہوتا ہے۔
کتب حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اس کی مزید وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5892 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5892 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
... عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے ... [صحيح بخاري 5892]
ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا؟
جن احادیث میں داڑھیاں چھوڑنے، معاف کرنے اور بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، ان کے راویوں میں سے ایک راوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ دیکھئے: [صحيح البخاري 5892، 5893 وصحيح مسلم 259]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ حج اور عمرے کے وقت اپنی داڑھی کا کچھ حصہ (ایک مشت سے زیادہ کو) کاٹ دیتے تھے۔ دیکھئے: [صحيح البخاري 5892 وسنن ابي داود 2357 وسنده حسن وحسنه الدارقطني 2/ 182 وصححه الحاكم 1/ 422 ووافقه الذهبي]
کسی صحابی سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر اس سلسلے میں انکار ثابت نہیں ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتاکہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسے متبع سنت صحابی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنیں اور پھر خود ہی اس کی مخالفت بھی کریں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: «والأخذ من الشارب والأظفار واللحية“»
مونچھوں، ناخنوں اور داڑھی میں سے کاٹنا۔
[مصنف ابن ابي شيبه 4/ 85 ح 15668 وسنده صحيح، تفسير ابن جرير 17/ 109 وسنده صحيح]
محمد بن کعب القرظی (تابعی، ثقہ عالم) بھی حج میں داڑھی سے کچھ کاٹنے کے قائل تھے۔ [تفسير ابن جرير 17/ 109 وسنده حسن]
ابن جریج بھی اس کے قائل تھے۔ [تفسير طبري 17/ 110 وسنده صحيح]
ابراہیم (نخعی) رخساروں کے بال کاٹتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 375 ح25473 وسنده صحيح]
قاسم بن محمد بن ابی بکر بھی جب سر منڈاتے تو اپنی مونچھوں اور داڑھی کے بال کاٹتے تھے۔ [ابن ابي شيبه: ح 25476 وسنده صحيح]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 375 ح 25479 وسنده حسن]
اس کے راوی عمر و بن ایو ب کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (7/ 224، 225) اور اس سے شعبہ بن الحجاج نے روایت لی ہے۔ شعبہ کے بارے میں یہ عمومی قاعدہ ہے کہ وہ (عام طور پر) اپنے نزدیک ثقہ راوی سے ہی روایت کرتے تھے۔ دیکھئے تہذیب التہذیب (1/ 4، 5) اس عمومی قاعدے سے صرف وہی راوی مستثنیٰ ہو گا جس کے بارے میں صراحت ثابت ہو جائے یا جمہور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہو۔
ان دو توثیقات کی وجہ سے عمر و بن ایو ب حسن درجے کا راوی قرار پاتا ہے۔
طاوس (تابعی) بھی داڑھی میں سے کاٹنے کے قائل تھے۔ (الترجل للخلال: 96 وسندہ صحیح، ہارون ھو ابن یوسف بن ہارون بن زیاد الشطوی) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی اسی جواز کے قائل تھے۔ [كتاب الترجل: 92]
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا اور رخساروں کے بال لیناجائز ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ داڑھی کو بالکل قینچی نہ لگائی جائے۔ «والله اعلم»
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ صحابی کا عمل دلیل ہے یانہیں؟ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا کون سا فہم معتبر ہے۔ وہ فہم جو چودھویں پندرھویں صدی ہجری کا ایک عالم پیش کر رہا ہے یا وہ فہم یا جو صحابہ، تابعین و تبع تابعین اور محدثین کرام سے ثابت ہے۔؟!
ہم تو وہی فہم مانتے ہیں جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین و محدثین اور قابلِ اعتماد علمائے امت سے ثابت ہے۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک صحابی، تابعی، تبع تابعی، محدث یا معتبر عالم نے ایک مٹھی سے زیادہ داڑھی کو کاٹنا حرام یا ناجائز نہیں قرار دیا۔
حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ ہے ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں کیونکہ وہ لغت اور اصطلاحات سے غافل نہ تھے ……“
[فتاويٰ اهل حديث ج 1 ص 111]
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو (شمارہ 27 صفحہ 57 اور 58)
جن احادیث میں داڑھیاں چھوڑنے، معاف کرنے اور بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، ان کے راویوں میں سے ایک راوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ دیکھئے: [صحيح البخاري 5892، 5893 وصحيح مسلم 259]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ حج اور عمرے کے وقت اپنی داڑھی کا کچھ حصہ (ایک مشت سے زیادہ کو) کاٹ دیتے تھے۔ دیکھئے: [صحيح البخاري 5892 وسنن ابي داود 2357 وسنده حسن وحسنه الدارقطني 2/ 182 وصححه الحاكم 1/ 422 ووافقه الذهبي]
کسی صحابی سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر اس سلسلے میں انکار ثابت نہیں ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتاکہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسے متبع سنت صحابی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنیں اور پھر خود ہی اس کی مخالفت بھی کریں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: «والأخذ من الشارب والأظفار واللحية“»
مونچھوں، ناخنوں اور داڑھی میں سے کاٹنا۔
[مصنف ابن ابي شيبه 4/ 85 ح 15668 وسنده صحيح، تفسير ابن جرير 17/ 109 وسنده صحيح]
محمد بن کعب القرظی (تابعی، ثقہ عالم) بھی حج میں داڑھی سے کچھ کاٹنے کے قائل تھے۔ [تفسير ابن جرير 17/ 109 وسنده حسن]
ابن جریج بھی اس کے قائل تھے۔ [تفسير طبري 17/ 110 وسنده صحيح]
ابراہیم (نخعی) رخساروں کے بال کاٹتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 375 ح25473 وسنده صحيح]
قاسم بن محمد بن ابی بکر بھی جب سر منڈاتے تو اپنی مونچھوں اور داڑھی کے بال کاٹتے تھے۔ [ابن ابي شيبه: ح 25476 وسنده صحيح]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 375 ح 25479 وسنده حسن]
اس کے راوی عمر و بن ایو ب کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (7/ 224، 225) اور اس سے شعبہ بن الحجاج نے روایت لی ہے۔ شعبہ کے بارے میں یہ عمومی قاعدہ ہے کہ وہ (عام طور پر) اپنے نزدیک ثقہ راوی سے ہی روایت کرتے تھے۔ دیکھئے تہذیب التہذیب (1/ 4، 5) اس عمومی قاعدے سے صرف وہی راوی مستثنیٰ ہو گا جس کے بارے میں صراحت ثابت ہو جائے یا جمہور محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہو۔
ان دو توثیقات کی وجہ سے عمر و بن ایو ب حسن درجے کا راوی قرار پاتا ہے۔
طاوس (تابعی) بھی داڑھی میں سے کاٹنے کے قائل تھے۔ (الترجل للخلال: 96 وسندہ صحیح، ہارون ھو ابن یوسف بن ہارون بن زیاد الشطوی) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی اسی جواز کے قائل تھے۔ [كتاب الترجل: 92]
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی کاٹنا اور رخساروں کے بال لیناجائز ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ داڑھی کو بالکل قینچی نہ لگائی جائے۔ «والله اعلم»
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ صحابی کا عمل دلیل ہے یانہیں؟ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا کون سا فہم معتبر ہے۔ وہ فہم جو چودھویں پندرھویں صدی ہجری کا ایک عالم پیش کر رہا ہے یا وہ فہم یا جو صحابہ، تابعین و تبع تابعین اور محدثین کرام سے ثابت ہے۔؟!
ہم تو وہی فہم مانتے ہیں جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین و محدثین اور قابلِ اعتماد علمائے امت سے ثابت ہے۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک صحابی، تابعی، تبع تابعی، محدث یا معتبر عالم نے ایک مٹھی سے زیادہ داڑھی کو کاٹنا حرام یا ناجائز نہیں قرار دیا۔
حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ ہے ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں کیونکہ وہ لغت اور اصطلاحات سے غافل نہ تھے ……“
[فتاويٰ اهل حديث ج 1 ص 111]
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو (شمارہ 27 صفحہ 57 اور 58)
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 57 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5893 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´ داڑھی کا چھوڑ دینا `
«. . . عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى . . .»
”. . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں خوب کتروا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/بَابُ إِعْفَاءِ اللِّحَى: 5893]
«. . . عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى . . .»
”. . . عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں خوب کتروا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/بَابُ إِعْفَاءِ اللِّحَى: 5893]
تخريج الحديث:
[147۔ البخاري فى: 77 كتاب اللباس: 65 باب إعفاء اللحي 5893]
لغوی توضیح:
«اَنْهِكُوْا» مبالغے سے مونچھیں پست کرنا۔
«اَعْفُوْا» معاف کر دو، یعنی انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دو۔
فھم الحدیث:
پہلی روایت میں پانچ فطری امور کا ذکر ہے جبکہ ایک دوسری روایت میں دس امور کا ذکر ہے، جس میں مسواک، داڑھی کو صاف کرنے، کلی کرنے، استنجاء کرنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو دھونے کا اضافہ ہے۔ [مسلم: كتاب الايمان 261، أبوداؤد 53، ترمذي 2757، ابن ماجه 293]
علاوہ ازیں درج بالا دوسری اور تیسری روایت میں مونچھیں پست کرنے اور داڑھی کو معاف کرنے کا تاکیدی حکم ہے، جس کی پابندی کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ داڑھی منڈوانا حرام ہے۔ [مجموع فتاويٰ و رسائل ابن عثيمين 81/11]
[147۔ البخاري فى: 77 كتاب اللباس: 65 باب إعفاء اللحي 5893]
لغوی توضیح:
«اَنْهِكُوْا» مبالغے سے مونچھیں پست کرنا۔
«اَعْفُوْا» معاف کر دو، یعنی انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دو۔
فھم الحدیث:
پہلی روایت میں پانچ فطری امور کا ذکر ہے جبکہ ایک دوسری روایت میں دس امور کا ذکر ہے، جس میں مسواک، داڑھی کو صاف کرنے، کلی کرنے، استنجاء کرنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو دھونے کا اضافہ ہے۔ [مسلم: كتاب الايمان 261، أبوداؤد 53، ترمذي 2757، ابن ماجه 293]
علاوہ ازیں درج بالا دوسری اور تیسری روایت میں مونچھیں پست کرنے اور داڑھی کو معاف کرنے کا تاکیدی حکم ہے، جس کی پابندی کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ داڑھی منڈوانا حرام ہے۔ [مجموع فتاويٰ و رسائل ابن عثيمين 81/11]
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 147 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5893 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5893. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مونچھیں پست کراؤ اور ڈاڑھی خوب بڑھاؤ۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5893]
حدیث حاشیہ: داڑھی رکھنا تمام انبیاءکرام علیہم السلام کی سنت ہے۔
مبارک باد ہیں جو لوگ اپنا حلیہ سنت نبوی کے مطابق بنائیں۔
آج کی دنیا میں مردوں کو داڑھی سے اس قدر نفرت ہو گئی ہے کہ بیشتر تعداد میں یہی عادت جڑ پکڑ چکی ہے حالانکہ حکمت اور سائنس کی رو سے بھی مردوں کے لیے داڑھی کا رکھنا بہت ہی مفید ہے۔
کتب متعلقہ ملاحظہ ہوں۔
مومنوں کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
مبارک باد ہیں جو لوگ اپنا حلیہ سنت نبوی کے مطابق بنائیں۔
آج کی دنیا میں مردوں کو داڑھی سے اس قدر نفرت ہو گئی ہے کہ بیشتر تعداد میں یہی عادت جڑ پکڑ چکی ہے حالانکہ حکمت اور سائنس کی رو سے بھی مردوں کے لیے داڑھی کا رکھنا بہت ہی مفید ہے۔
کتب متعلقہ ملاحظہ ہوں۔
مومنوں کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5893 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5893 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5893. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مونچھیں پست کراؤ اور ڈاڑھی خوب بڑھاؤ۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5893]
حدیث حاشیہ:
(1)
داڑھی بڑھانے کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوتے ہیں: مثلاً: وفروا، أوفروا، أعفوا، أرجئو اور أوفوا۔
ان کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان تمام الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں کہ داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے۔
(شرح صحیح مسلم للنووي: 129/1)
داڑھی شعائر اسلام سے ہے جس سے ایک مسلمان کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، مثلاً: ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بڑھانے کے متعلق حکم دیا ہے آپ کا حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی قرینہ صارفہ پایا جائے۔
٭ اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کو یہودونصاریٰ اور مشرکین و مجوس سے ہم نوائی قرار دیا ہے اور ان کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے: ٭ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کراؤ۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5892)
٭ یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو، اپنی داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرو۔
(مسند أحمد: 264/5)
٭ مجوسی لوگوں کی مخالفت کرو، داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑو اور مونچھیں پست کراؤ۔
(صحیح ابن حبان: 408/1)
٭ شیطان کا ایک حربہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خلقتِ الٰہیہ میں تبدیلی پر آمادہ کرتا ہے۔
(النساء: 114)
داڑھی سے چھیڑچھاڑ کرنا تخلیق الٰہی میں تبدیلی کرنا ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
٭ داڑھی کا بڑھانا امور فطرت سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، الطھارة، حدیث: 604 (261)
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ اسے فطرت پر رہنے دیا جائے، اس میں کانٹ چھانٹ کر کے غیر فطری عمل نہ کیا جائے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا جبکہ داڑھی منڈوانے سے عورتوں کی مشابہت ہوتی ہے۔
اس سے محفوظ رہنے کا یہی طریقہ ہے کہ اسے اپنی حالت پر رہنے دیا جائے۔
(3)
داڑھی منڈوانا ایک برا کام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو ایرانی باشندوں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جنہوں نے داڑھی منڈوا رکھی تھی۔
(4)
داڑھی رکھنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سنت نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
ان حضرات کے جتنے بھی پیروکار ہیں ان میں سے کوئی بھی داڑھی منڈوانے والا نہیں۔
(5)
گناہ کرتے وقت ہر انسان اپنے اندر ایک اذیت محسوس کرتا ہے لیکن داڑھی کی مخالفت ایسا جرم ہے کہ اس کے کرنے پر انسان خوش ہوتا ہے اور اسے اپنے لیے باعث زینت خیال کرتا ہے، اس سے بڑھ کر اس کی توہین کیا ہو سکتی ہے کہ داڑھی منڈوانے والا ان مقدس بالوں کو گندی نالی میں پھینک دیتا ہے۔
(6)
مندرجہ بالا امور کے پیش نظر ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ داڑھی کے بغیر رہے اور اسے منڈوا کر اپنے دشمن شیطان کو خوش کرے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ داڑھی بڑھانے کے نبوی حکم سے ایک صورت مستثنیٰ ہے کہ جب عورت کو داڑھی کے بال نکل آئیں تو اسے منڈوانا مستحب ہے، اسی طرح اگر داڑھی بچہ یا مونچھیں اگ آئیں تو انہیں بھی صاف کرا دیا جائے۔
(فتح الباري: 431/10) (7)
کچھ اہل علم داڑھی کاٹنے کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
وہ اس سلسلے میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی کے طول و عرض سے زائد بال لے لیتے تھے۔
(جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2762)
اس کے متعلق حافظ ابن حجر، امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور اس میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے جسے مطلق طور پر ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(کتاب میں حوالہ موجود نہیں)
اسی طرح حضرت ابن عمر، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ یہ حضرات عام طور پر یا خاص مواقع پر ایک مٹھی سے زائد داڑھی اور رخساروں کے بال کٹوا دیتے تھے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری حدیث: 5892 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے طبقات ابن سعد: 4/334 اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مصنف ابن ابی شیبہ: 4/85 میں اس قسم کی روایات موجود ہیں، حالانکہ ان تینوں حضرات سے داڑھی بڑھانے کے متعلق امر نبوی بھی منقول ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری، حدیث: 5892، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم، الطہارۃ، حدیث: 603 اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مجمع الزوائد: 5/169 میں روایات آئی ہیں۔
اس بنا پر ہمارے نزدیک قابل عمل ان حضرات کی روایت نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے۔
بہرحال کانٹ چھانٹ کے بغیر پوری داڑھی رکھنا تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔
مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنا حلیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رکھتے ہیں اور اس فطرتی حسن سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے۔
واللہ المستعان
(1)
داڑھی بڑھانے کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوتے ہیں: مثلاً: وفروا، أوفروا، أعفوا، أرجئو اور أوفوا۔
ان کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان تمام الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں کہ داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے۔
(شرح صحیح مسلم للنووي: 129/1)
داڑھی شعائر اسلام سے ہے جس سے ایک مسلمان کی شناخت اور پہچان ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، مثلاً: ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بڑھانے کے متعلق حکم دیا ہے آپ کا حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی قرینہ صارفہ پایا جائے۔
٭ اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کو یہودونصاریٰ اور مشرکین و مجوس سے ہم نوائی قرار دیا ہے اور ان کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے: ٭ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کراؤ۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5892)
٭ یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو، اپنی داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرو۔
(مسند أحمد: 264/5)
٭ مجوسی لوگوں کی مخالفت کرو، داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑو اور مونچھیں پست کراؤ۔
(صحیح ابن حبان: 408/1)
٭ شیطان کا ایک حربہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خلقتِ الٰہیہ میں تبدیلی پر آمادہ کرتا ہے۔
(النساء: 114)
داڑھی سے چھیڑچھاڑ کرنا تخلیق الٰہی میں تبدیلی کرنا ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
٭ داڑھی کا بڑھانا امور فطرت سے ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، الطھارة، حدیث: 604 (261)
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ اسے فطرت پر رہنے دیا جائے، اس میں کانٹ چھانٹ کر کے غیر فطری عمل نہ کیا جائے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا جبکہ داڑھی منڈوانے سے عورتوں کی مشابہت ہوتی ہے۔
اس سے محفوظ رہنے کا یہی طریقہ ہے کہ اسے اپنی حالت پر رہنے دیا جائے۔
(3)
داڑھی منڈوانا ایک برا کام ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو ایرانی باشندوں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جنہوں نے داڑھی منڈوا رکھی تھی۔
(4)
داڑھی رکھنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سنت نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
ان حضرات کے جتنے بھی پیروکار ہیں ان میں سے کوئی بھی داڑھی منڈوانے والا نہیں۔
(5)
گناہ کرتے وقت ہر انسان اپنے اندر ایک اذیت محسوس کرتا ہے لیکن داڑھی کی مخالفت ایسا جرم ہے کہ اس کے کرنے پر انسان خوش ہوتا ہے اور اسے اپنے لیے باعث زینت خیال کرتا ہے، اس سے بڑھ کر اس کی توہین کیا ہو سکتی ہے کہ داڑھی منڈوانے والا ان مقدس بالوں کو گندی نالی میں پھینک دیتا ہے۔
(6)
مندرجہ بالا امور کے پیش نظر ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ داڑھی کے بغیر رہے اور اسے منڈوا کر اپنے دشمن شیطان کو خوش کرے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ داڑھی بڑھانے کے نبوی حکم سے ایک صورت مستثنیٰ ہے کہ جب عورت کو داڑھی کے بال نکل آئیں تو اسے منڈوانا مستحب ہے، اسی طرح اگر داڑھی بچہ یا مونچھیں اگ آئیں تو انہیں بھی صاف کرا دیا جائے۔
(فتح الباري: 431/10) (7)
کچھ اہل علم داڑھی کاٹنے کے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
وہ اس سلسلے میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی کے طول و عرض سے زائد بال لے لیتے تھے۔
(جامع الترمذي، الأدب، حدیث: 2762)
اس کے متعلق حافظ ابن حجر، امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے اور اس میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے جسے مطلق طور پر ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(کتاب میں حوالہ موجود نہیں)
اسی طرح حضرت ابن عمر، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ یہ حضرات عام طور پر یا خاص مواقع پر ایک مٹھی سے زائد داڑھی اور رخساروں کے بال کٹوا دیتے تھے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری حدیث: 5892 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے طبقات ابن سعد: 4/334 اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مصنف ابن ابی شیبہ: 4/85 میں اس قسم کی روایات موجود ہیں، حالانکہ ان تینوں حضرات سے داڑھی بڑھانے کے متعلق امر نبوی بھی منقول ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری، حدیث: 5892، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم، الطہارۃ، حدیث: 603 اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مجمع الزوائد: 5/169 میں روایات آئی ہیں۔
اس بنا پر ہمارے نزدیک قابل عمل ان حضرات کی روایت نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے۔
بہرحال کانٹ چھانٹ کے بغیر پوری داڑھی رکھنا تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔
مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنا حلیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رکھتے ہیں اور اس فطرتی حسن سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5893 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 259 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
’’ہمیں مونچھیں اچھی طرح ترشوانے، اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:601]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: داڑھی کو پورا چھوڑو، کیونکہ "أوْفٰی النَّذْر" کا معنی ہے، نذر پوری کی۔
أوْفٰی بِالْوَعْدِ: وعدہ پورا کیا۔
أوْفٰی الْكَيْلَ: پیمانہ پورا ناپا۔
أوْفٰی فُلَانًا حَقَّهُ: اس کا حق پورا دیا۔
: داڑھی کو پورا چھوڑو، کیونکہ "أوْفٰی النَّذْر" کا معنی ہے، نذر پوری کی۔
أوْفٰی بِالْوَعْدِ: وعدہ پورا کیا۔
أوْفٰی الْكَيْلَ: پیمانہ پورا ناپا۔
أوْفٰی فُلَانًا حَقَّهُ: اس کا حق پورا دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 259 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 259 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابنِ عمر ؓ سے مرفوع روایت ہے، کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مونچھیں خوب کترو اور داڑھی بڑھاؤ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:600]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
أَحْفُوا: اچھی طرح زائل کرنا، مونچھیں خوب، اچھی طرح تراشنی چاہئیں۔
(2)
أَعْفُوا اللِّحَى: اعفاء ترک کرنے چھوڑ دینے کو کہتے ہیں، اور "لِحَى" "لِحْيَةٌ" کی جمع ہے۔
(رخساروں اور ٹھوڑی کے بال)
: (1)
أَحْفُوا: اچھی طرح زائل کرنا، مونچھیں خوب، اچھی طرح تراشنی چاہئیں۔
(2)
أَعْفُوا اللِّحَى: اعفاء ترک کرنے چھوڑ دینے کو کہتے ہیں، اور "لِحَى" "لِحْيَةٌ" کی جمع ہے۔
(رخساروں اور ٹھوڑی کے بال)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 259 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2764 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´داڑھی بڑھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مونچھیں کٹوانے اور ڈاڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2764]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مونچھیں کٹوانے اور ڈاڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2764]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان دونوں لفظوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کرنے والے ابن عمر رضی اللہ عنہما جن کی سمجھ کی داد خود نبی اکرمﷺ نے دی ہے، اورجو اتباع سنت میں اس حد تک بڑھے ہوے تھے کہ جہاں نبی اکرمﷺ نے اونٹ بیٹھا کر پیشاب کیا تھا وہاں آپﷺ بلاضرورت بھی اقتداء میں بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے تو یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ آپ جو ایک مٹھی سے زیادہ اپنی داڑھی کو کاٹ دیا کرتے تھے یہ فرمانِ رسولﷺ کی مخالفت ہے؟ بات یہ نہیں ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ابن عمر کا یہ فعل حدیث کے خلاف نہیں ہے، (توفیر) اور (اعفاء) کا مطلب ایک مٹھی سے زیادہ کاٹنے پر بھی حاصل ہو جاتا ہے، آپ از حد متبع سنت صحابی ہیں نیز عربی زبان کے جانکار ہیں، آپ سے زیادہ فرمان رسول کو کون سمجھ سکتا ہے؟ اورکون اتباع کر سکتا ہے؟۔
اس لیے جو اہل علم داڑھی کو ایک قبضہ کے بعد کاٹنے کا فتوی دیتے ہیں ان کی بات میں وزن ہے اوریہ ان مسائل میں سے ہے جس میں علماء کا اختلاف قوی اورمعتبر ہے، واللہ اعلم۔
وضاحت:
1؎:
ان دونوں لفظوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کرنے والے ابن عمر رضی اللہ عنہما جن کی سمجھ کی داد خود نبی اکرمﷺ نے دی ہے، اورجو اتباع سنت میں اس حد تک بڑھے ہوے تھے کہ جہاں نبی اکرمﷺ نے اونٹ بیٹھا کر پیشاب کیا تھا وہاں آپﷺ بلاضرورت بھی اقتداء میں بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے تو یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ آپ جو ایک مٹھی سے زیادہ اپنی داڑھی کو کاٹ دیا کرتے تھے یہ فرمانِ رسولﷺ کی مخالفت ہے؟ بات یہ نہیں ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ابن عمر کا یہ فعل حدیث کے خلاف نہیں ہے، (توفیر) اور (اعفاء) کا مطلب ایک مٹھی سے زیادہ کاٹنے پر بھی حاصل ہو جاتا ہے، آپ از حد متبع سنت صحابی ہیں نیز عربی زبان کے جانکار ہیں، آپ سے زیادہ فرمان رسول کو کون سمجھ سکتا ہے؟ اورکون اتباع کر سکتا ہے؟۔
اس لیے جو اہل علم داڑھی کو ایک قبضہ کے بعد کاٹنے کا فتوی دیتے ہیں ان کی بات میں وزن ہے اوریہ ان مسائل میں سے ہے جس میں علماء کا اختلاف قوی اورمعتبر ہے، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2764 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5228 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5228]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5228]
اردو حاشہ: دیکھیے حدیث: 15
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5228 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 15 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مونچھ کو خوب کترنے اور داڑھیوں کو چھوڑ دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مونچھوں کو خوب کترو ۱؎، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو “ ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 15]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مونچھوں کو خوب کترو ۱؎، اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو “ ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 15]
15۔ اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث میں «أَحْفُوا الشَّوَارِبَ» ’’مونچھیں خوب منڈاؤ“ کے الفاظ ہیں، جب کہ اس سے پہلی روایات میں کاٹنے کا ذکر ہے، گویا یہاں مبالغہ مقصود ہے، ورنہ مراد کاٹنا ہی ہے۔ یہ بھی کہا: جا سکتا ہے کہ دونوں طریقے جائز ہیں۔ اگرچہ امام مالک رحمہ اللہ نے مونچھیں مونڈنے کو ناپسند کیا ہے کہ اس سے مرد کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے، نیز اس میں عورت سے مشابہت ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے اس استدلال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب کہ مذکورہ تطبیق ممکن ہے۔
➋ ڈاڑھی رکھنے یا بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے مونچھوں کی طرح کاٹا نہ جائے کیونکہ ڈاڑھی مرد کی خصوصیت ہے اور اسے مونڈنا یا کاٹنا عورت کی مشابہت ہے اور یہ حرام ہے۔
➋ ڈاڑھی رکھنے یا بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے مونچھوں کی طرح کاٹا نہ جائے کیونکہ ڈاڑھی مرد کی خصوصیت ہے اور اسے مونڈنا یا کاٹنا عورت کی مشابہت ہے اور یہ حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 15 سے ماخوذ ہے۔