سنن نسائي
كتاب الإيمان وشرائعه— کتاب: ایمان اور ارکان ایمان
بَابُ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ باب: منافق کی مثال۔
حدیث نمبر: 5040
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو ، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر ، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´منافق کی مثال۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5040]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5040]
اردو حاشہ: منافقین کےلیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی تو ہین ہے کہ ان کو مؤنث سے مشابہت دی گئی ہے۔ گویا مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں کبھی کافروں کی، لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی، حیران وپریشان ہی رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5040 سے ماخوذ ہے۔