سنن نسائي
كتاب الإيمان وشرائعه— کتاب: ایمان اور ارکان ایمان
بَابُ : عَلامَةُ الإِيمَانِ باب: ایمان کی نشانی۔
حدیث نمبر: 5020
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ایمان کی نشانی۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5020]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5020]
اردو حاشہ: خیر وبھلائی سے دنیا وعقبیٰ کی ہر خیر وبھلائی مراد ہے، طاعات سے لے کر جنت تک۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5020 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 13 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´ہر انسان اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 13]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 13]
� فہم الحدیث:
اس حدیث میں معاشرتی امن و سکون قائم کرنے کا ایک بہترین طریقہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، یعنی اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی عزت کی جائے تو دوسروں کی عزت کرے، اگر وہ چاہتا ہے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے تو وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے، اگر چاہتا ہے کہ اس کے امن و امان کو کوئی تہ و بالا نہ کرے تو وہ دوسروں کے امن و امان کا بھی خیال رکھے وغیرہ وغیرہ۔ اگر تمام مسلمان اس طریقے کو اپنا لیں تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ سارا اسلامی معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا۔
اس حدیث میں معاشرتی امن و سکون قائم کرنے کا ایک بہترین طریقہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، یعنی اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی عزت کی جائے تو دوسروں کی عزت کرے، اگر وہ چاہتا ہے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے تو وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے، اگر چاہتا ہے کہ اس کے امن و امان کو کوئی تہ و بالا نہ کرے تو وہ دوسروں کے امن و امان کا بھی خیال رکھے وغیرہ وغیرہ۔ اگر تمام مسلمان اس طریقے کو اپنا لیں تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ سارا اسلامی معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 28 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 13 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
13. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:13]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں ایمان کی نفی سے مراد کمال ایمان کی نفی مقصود ہے جیسا کہ عربی زبان میں کہاجاتا ہے: (فلان ليس بإنسان)
’’فلاں شخص انسان نہیں ہے۔
‘‘ اس سے مراد کامل انسان ہونے کی نفی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جومسلمان دیگرارکان اسلام کاخیال رکھتے ہوئے اس مبارک خصلت کو عمل میں لائے گا وہ مومن کامل ہوگا بصورت دیگر اس کا ایمان ناقص ہوگا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود بھی یہی ہے کہ ایمان کم وبیش ہوتا رہتا ہے۔
(فتح الباري: 80/1)
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مسلمان جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتا ہے وہ دوسرے بھائی کے لیے بھی ناپسند کرے۔
اگرچہ حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں، تاہم اس کا متبادر مفہوم یہی ہے کیونکہ کسی چیز سے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی نقیض سے بغض ہو۔
(شرح الکرماني: 95/1)
3۔
اس خصلت کے کئی ایک فوائد ہیں: (الف)
۔
تکبر ختم ہوگا۔
(ب)
۔
اسلامی اخوت پختہ ہوگی۔
(ج)
۔
شفقت ورحمت کا جذبہ پیدا ہوگا۔
(د)
۔
حسد کی بیخ کنی ہوگی۔
(ھ)
دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا خوگر ہوگا۔
4۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پہلے عنوانات میں اسلام کا لفظ استعمال کیا تھا کیونکہ بیان کردہ امور کا تعلق ظاہری افعال سے تھا جیسا کہ اطعام طعام اورافشائے سلام وغیرہ، لیکن اس باب میں ’’ایمان‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے کیونکہ محبت دل کا فعل ہے، اس لیے اس کی تعبیر میں ایمان ہی کا لفظ موزوں ہے کیونکہ اس کا تعلق بھی دل سے ہے۔
5۔
یہ حدیث اصلاح معاشرہ کے لیے بہت کیمیا اثر ہے۔
اگر اس حدیث پر عمل کرلیا جائے تو ان تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے جو آج یہاں رونما ہو رہے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی کسی کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنا چاہتاہے، اس وقت سوچ لیا جائے کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کیا میں اسے پسند کرتا جو خود میں اس کے ساتھ کرناچاہتا ہوں؟ اگراتنی سی سوچ پیدا ہوجائے تودنیا کا تمام فساد نیست ونابود ہوجائے۔
6۔
مصنف نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں: پہلی سند میں شعبہ نے قتادہ سے بصیغہ عن بیان کیا ہے جبکہ دوسری سند میں حسین معلم نے قتادہ سے بیان کرتے ہوئے صیغہ تحدیث (حَدَّثنَاَ)
استعمال کیا ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کو جمع نہیں کیا بلکہ الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔
اور چونکہ ان کے شیخ نے بھی ایسے ہی ذکر کیا تھا۔
1۔
اس حدیث میں ایمان کی نفی سے مراد کمال ایمان کی نفی مقصود ہے جیسا کہ عربی زبان میں کہاجاتا ہے: (فلان ليس بإنسان)
’’فلاں شخص انسان نہیں ہے۔
‘‘ اس سے مراد کامل انسان ہونے کی نفی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جومسلمان دیگرارکان اسلام کاخیال رکھتے ہوئے اس مبارک خصلت کو عمل میں لائے گا وہ مومن کامل ہوگا بصورت دیگر اس کا ایمان ناقص ہوگا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود بھی یہی ہے کہ ایمان کم وبیش ہوتا رہتا ہے۔
(فتح الباري: 80/1)
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مسلمان جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتا ہے وہ دوسرے بھائی کے لیے بھی ناپسند کرے۔
اگرچہ حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں، تاہم اس کا متبادر مفہوم یہی ہے کیونکہ کسی چیز سے محبت رکھنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی نقیض سے بغض ہو۔
(شرح الکرماني: 95/1)
3۔
اس خصلت کے کئی ایک فوائد ہیں: (الف)
۔
تکبر ختم ہوگا۔
(ب)
۔
اسلامی اخوت پختہ ہوگی۔
(ج)
۔
شفقت ورحمت کا جذبہ پیدا ہوگا۔
(د)
۔
حسد کی بیخ کنی ہوگی۔
(ھ)
دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کا خوگر ہوگا۔
4۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پہلے عنوانات میں اسلام کا لفظ استعمال کیا تھا کیونکہ بیان کردہ امور کا تعلق ظاہری افعال سے تھا جیسا کہ اطعام طعام اورافشائے سلام وغیرہ، لیکن اس باب میں ’’ایمان‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے کیونکہ محبت دل کا فعل ہے، اس لیے اس کی تعبیر میں ایمان ہی کا لفظ موزوں ہے کیونکہ اس کا تعلق بھی دل سے ہے۔
5۔
یہ حدیث اصلاح معاشرہ کے لیے بہت کیمیا اثر ہے۔
اگر اس حدیث پر عمل کرلیا جائے تو ان تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے جو آج یہاں رونما ہو رہے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی کسی کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنا چاہتاہے، اس وقت سوچ لیا جائے کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کیا میں اسے پسند کرتا جو خود میں اس کے ساتھ کرناچاہتا ہوں؟ اگراتنی سی سوچ پیدا ہوجائے تودنیا کا تمام فساد نیست ونابود ہوجائے۔
6۔
مصنف نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں: پہلی سند میں شعبہ نے قتادہ سے بصیغہ عن بیان کیا ہے جبکہ دوسری سند میں حسین معلم نے قتادہ سے بیان کرتے ہوئے صیغہ تحدیث (حَدَّثنَاَ)
استعمال کیا ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کو جمع نہیں کیا بلکہ الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔
اور چونکہ ان کے شیخ نے بھی ایسے ہی ذکر کیا تھا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 13 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 45 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پڑوسی، یا فرمایا اپنے بھائی کے لیے اس چیز کو پسند نہ کرے جسے وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:170]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
مقصد یہ ہے کہ ایمان کے اصل مقام تک پہنچنے کےلیے اور ا س کی خاص خیرات وبرکات کے حصول کی خاطر، ضروری ہے کہ انسان خود غرضی سے پاک ہو، اور اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کےلیے اتنا جذبہ خیر خواہی اور ہمدردی موجود ہو(جیسا کہ نسائی کی روایت میں "من الخیر" کی تصریح موجود ہے)
کہ جب نعمت، بھلائی اور جو بہتری وہ اپنے لیے چاہتا ہے وہی دوسرے بھائیوں کےلیے بھی چاہے، یا جس طرح وہ اپنے احترام واکرام، اپنے جذبات واحساسات کی پاسداری چاہتاہے اور اپنے ساتھ لوگوں کا جو رویہ اور طرز عمل پسند کرتا ہے، اپنے دوسرے بھائیوں کےساتھ وہی رویہ اور سلوک اختیار کرے، اور جو بات اور جو حال اور جو سلوک وہ اپنے ساتھ پسند نہیں کرتا، دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرے، اس کے بغیر وہ کامل ایمان دار نہیں ہو سکتا، اس لیے صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں ہے: "لَا یَبْلُغُ الْعَبْدُ حقِیْقَةَ الإِیْمَانِ" ’’بندہ ایمان کی حقیقت وکمال کو نہیں پا سکتا۔
‘‘ یہ عربی کا اس طرح کا ایک روز مرہ یا عام محاورہ ہے جس طرح ہم اردو میں کسی برے اور غلط کار آدمی کو کہہ دیتے ہیں کہ ’’اس میں تو انسانیت ہی نہیں ہے‘‘ مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھا اور معقول آدمی نہیں ہے۔
مقصد یہ ہے کہ ایمان کے اصل مقام تک پہنچنے کےلیے اور ا س کی خاص خیرات وبرکات کے حصول کی خاطر، ضروری ہے کہ انسان خود غرضی سے پاک ہو، اور اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کےلیے اتنا جذبہ خیر خواہی اور ہمدردی موجود ہو(جیسا کہ نسائی کی روایت میں "من الخیر" کی تصریح موجود ہے)
کہ جب نعمت، بھلائی اور جو بہتری وہ اپنے لیے چاہتا ہے وہی دوسرے بھائیوں کےلیے بھی چاہے، یا جس طرح وہ اپنے احترام واکرام، اپنے جذبات واحساسات کی پاسداری چاہتاہے اور اپنے ساتھ لوگوں کا جو رویہ اور طرز عمل پسند کرتا ہے، اپنے دوسرے بھائیوں کےساتھ وہی رویہ اور سلوک اختیار کرے، اور جو بات اور جو حال اور جو سلوک وہ اپنے ساتھ پسند نہیں کرتا، دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرے، اس کے بغیر وہ کامل ایمان دار نہیں ہو سکتا، اس لیے صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں ہے: "لَا یَبْلُغُ الْعَبْدُ حقِیْقَةَ الإِیْمَانِ" ’’بندہ ایمان کی حقیقت وکمال کو نہیں پا سکتا۔
‘‘ یہ عربی کا اس طرح کا ایک روز مرہ یا عام محاورہ ہے جس طرح ہم اردو میں کسی برے اور غلط کار آدمی کو کہہ دیتے ہیں کہ ’’اس میں تو انسانیت ہی نہیں ہے‘‘ مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھا اور معقول آدمی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2515 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2515]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2515]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہیے، اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت، بددیانتی، جعل سازی، لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کر نا ہوگا، إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہوجائیں گی، ورنہ ذلت اوربد اخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہیے، اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت، بددیانتی، جعل سازی، لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کر نا ہوگا، إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہوجائیں گی، ورنہ ذلت اوربد اخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2515 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5042 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مومن کی پہچان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
اردو حاشہ: عبارت یہاں بے محل ہے۔ حفض بن عمر کی بحث کا تعلق حدیث: 5000 سے ہے اور اس میں بھی راجح یہی ہے کہ یہ حفض بن عمر ہی ہے اور عبدالصمد کا دعوائے تصحیف درست نہیں۔دیکھییے(ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی:37/249) دوسری بات حدیث: 5006سے متعلق ہے۔اس میں دعوی ٰ کیا گیا ہے کہ (واستقبلو ا قبلتنا ......) کا اضافہ حمید الطویل سے صرف عبد اللہ بن مبارک اور یحیٰ بن ایوب مصری بیان کرتے ہیں تو بھی درست نہیں کیونکہ محمد بن عیسیٰ بھی حمید الطویل سے یہ اضافہ نقل کرتے ہیں جیسا کہ باب تحریم الدم، حدیث3971 میں ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:37/392)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5042 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 66 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ایمان کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (یا اپنے پڑوسی) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 66]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (یا اپنے پڑوسی) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 66]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث میں مسلمانوں کی باہمی خیرخواہی کی فضیلت اور اس کی ترغیب ہے۔
(2)
دوسرے مسلمان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کوئی شخص اپنے لیے پسند کرتا ہے، مثلا: جس طرح کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اسے دھوکا دے، اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کو دھوکا نہ دے، جس طرح ایک شخص یہ پسند کرتا ہے کہ مشکل میں اس کی مدد کی جائے، اسے بھی چاہیے کہ مشکلات میں دوسروں کی مدد کرے۔
(3)
عام طور پر انسان اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے لیکن اپنے فرائض کے متعلق غفلت کا ارتکاب کرتا ہے، حالانکہ وہ بھی کسی کے حقوق ہیں، اگر ہر شخص دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو سب کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور معاشرے میں امن و امان قائم ہو جائے گی۔
(4)
اخلاق حسنہ ایمان کی تکمیل کا باعث ہیں، ان کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں آخرت میں عذاب ہو سکتا ہے۔
اس حدیث میں مسلمانوں کی باہمی خیرخواہی کی فضیلت اور اس کی ترغیب ہے۔
(2)
دوسرے مسلمان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کوئی شخص اپنے لیے پسند کرتا ہے، مثلا: جس طرح کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اسے دھوکا دے، اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کو دھوکا نہ دے، جس طرح ایک شخص یہ پسند کرتا ہے کہ مشکل میں اس کی مدد کی جائے، اسے بھی چاہیے کہ مشکلات میں دوسروں کی مدد کرے۔
(3)
عام طور پر انسان اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے لیکن اپنے فرائض کے متعلق غفلت کا ارتکاب کرتا ہے، حالانکہ وہ بھی کسی کے حقوق ہیں، اگر ہر شخص دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو سب کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور معاشرے میں امن و امان قائم ہو جائے گی۔
(4)
اخلاق حسنہ ایمان کی تکمیل کا باعث ہیں، ان کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں آخرت میں عذاب ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 66 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1256 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
مسلم بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرو
«وعن انس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال: والذي نفسي بيده لا يؤمن عبد حتى يحب لجاره او لاخيه ما يحب لنفسه متفق عليه»
”انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنے ہمسائے کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“ متفق عليه۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1256]
«وعن انس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال: والذي نفسي بيده لا يؤمن عبد حتى يحب لجاره او لاخيه ما يحب لنفسه متفق عليه»
”انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنے ہمسائے کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“ متفق عليه۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1256]
تخریج:
[بخاري 13]، [مسلم الايمان72]
یہ حدیث مسلم میں «حتي يحب الاخيه او قال لجاره» شک کے ساتھ ہے یعنی بھائی کے لئے یا فرمایا کہ ہمسائے کے لئے صحیح بخاری میں شک کے بغیر «حتى يحب لأخيه» کے الفاظ ہیں یعنی ”اپنے بھائی کے لئے پسند کرے۔“
ابونعیم نے المستخرج میں ابراهيم الحربی کے طریق سے مسدد سے روایت کی ہے (جو کہ حدیث میں بخاری کے شیخ ہیں) وہ یحییٰ القطان سے وہ حسین المعلم سے (وہ قتادہ سے، وہ انس سے) روایت کرتے ہیں اس میں یہ لفظ ہیں: «لا يومن عبد حتي يحب لاخيه ولجاره»
یعنی ”اپنے بھائی اور اپنے ہمسائے کے لئے پسند کرے۔“
اسماعیلی نے روح کے طریق ہے حسین سے یہ لفظ روایت کئے ہیں: «حتي يحب لاخيه المسلم ما يحب لنفسه من الخير»
”یعنی اپنے مسلم بھائی کے لئے وہ خیر پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے“ اور پسند کرنے سے مراد خیر پسند کرنا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہو گیا کہ بھائی سے مراد مسلم بھائی ہے۔ [فتح الباري ]
فوائد:
➊ ”مومن نہیں ہوتا“ سے مراد اس حدیث میں یہ ہے کہ کامل مومن نہیں ہوتا جس طرح کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو انسان ہی نہیں کیونکہ دوسری آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چند اوصاف کے علاوہ کسی ایک وصف کی کمی سے کوئی شخص ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
➋ اس حدیث میں مسلم بھائی اور ہمسائے کے لئے وہی چیز پسند کرنے کو ضروری قرار دیا گیا جو آدمی خود اپنے لئے پسند کرتا ہو۔ ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ بعض اوقات یہ چیز مشکل بلکہ ناممکن معلوم ہوتی ہے حالانکہ اگر آدمی اس بات کو محبوب رکھے کہ یہ نعمت جس طرح مجھے ملی ہے میری نعمت میں کمی کے بغیر میرے بھائی کو بھی مل جائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا ہے میرے بھائی پر بھی فضل کر دے تو یہ چیز کچھ مشکل نہیں ہے مگر یہ مقام انہیں لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو قلب سلیم رکھتے ہیں دھو کے حسد اور کینے سے بھرے ہوئے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو عافیت میں رکھے۔ [نووي ]
اسی طرح یہ مقام متواضع لوگ حاصل کرتے ہیں ہر چیز میں دوسروں پر اونچا رہنے کے خواہش مند یہ مقام حاصل نہیں کر سکتے: «تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [ 28-القصص:83]
”یہ آخری گھر ہم ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو زمین میں نہ بلندی کا ارادہ رکھتے ہی نہ فساد کا اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔“
[بخاري 13]، [مسلم الايمان72]
یہ حدیث مسلم میں «حتي يحب الاخيه او قال لجاره» شک کے ساتھ ہے یعنی بھائی کے لئے یا فرمایا کہ ہمسائے کے لئے صحیح بخاری میں شک کے بغیر «حتى يحب لأخيه» کے الفاظ ہیں یعنی ”اپنے بھائی کے لئے پسند کرے۔“
ابونعیم نے المستخرج میں ابراهيم الحربی کے طریق سے مسدد سے روایت کی ہے (جو کہ حدیث میں بخاری کے شیخ ہیں) وہ یحییٰ القطان سے وہ حسین المعلم سے (وہ قتادہ سے، وہ انس سے) روایت کرتے ہیں اس میں یہ لفظ ہیں: «لا يومن عبد حتي يحب لاخيه ولجاره»
یعنی ”اپنے بھائی اور اپنے ہمسائے کے لئے پسند کرے۔“
اسماعیلی نے روح کے طریق ہے حسین سے یہ لفظ روایت کئے ہیں: «حتي يحب لاخيه المسلم ما يحب لنفسه من الخير»
”یعنی اپنے مسلم بھائی کے لئے وہ خیر پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے“ اور پسند کرنے سے مراد خیر پسند کرنا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہو گیا کہ بھائی سے مراد مسلم بھائی ہے۔ [فتح الباري ]
فوائد:
➊ ”مومن نہیں ہوتا“ سے مراد اس حدیث میں یہ ہے کہ کامل مومن نہیں ہوتا جس طرح کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص تو انسان ہی نہیں کیونکہ دوسری آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چند اوصاف کے علاوہ کسی ایک وصف کی کمی سے کوئی شخص ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
➋ اس حدیث میں مسلم بھائی اور ہمسائے کے لئے وہی چیز پسند کرنے کو ضروری قرار دیا گیا جو آدمی خود اپنے لئے پسند کرتا ہو۔ ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ بعض اوقات یہ چیز مشکل بلکہ ناممکن معلوم ہوتی ہے حالانکہ اگر آدمی اس بات کو محبوب رکھے کہ یہ نعمت جس طرح مجھے ملی ہے میری نعمت میں کمی کے بغیر میرے بھائی کو بھی مل جائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا ہے میرے بھائی پر بھی فضل کر دے تو یہ چیز کچھ مشکل نہیں ہے مگر یہ مقام انہیں لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو قلب سلیم رکھتے ہیں دھو کے حسد اور کینے سے بھرے ہوئے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو عافیت میں رکھے۔ [نووي ]
اسی طرح یہ مقام متواضع لوگ حاصل کرتے ہیں ہر چیز میں دوسروں پر اونچا رہنے کے خواہش مند یہ مقام حاصل نہیں کر سکتے: «تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [ 28-القصص:83]
”یہ آخری گھر ہم ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو زمین میں نہ بلندی کا ارادہ رکھتے ہی نہ فساد کا اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔“
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 82 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1256 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نیکی اور صلہ رحمی کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس ذات اقدس کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کیلئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ “ (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1256»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس ذات اقدس کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کیلئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ “ (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1256»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الإيمان، باب من الإيمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه، حديث:13، ومسلم، الإيمان، باب الدليل علي أن من خصال الإيمان أن يحب لأخيه المسلم ما يحب لنفسه من الخير، حديث:45.»
تشریح: 1.اس حدیث میں تکمیل ایمان کے لیے ایک شرط بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے لیے پسند اور محبوب رکھے اپنے ہمسائے یا اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز محبوب رکھے۔
2. یقینا ہر انسان کی خواہش ہے کہ اس کی عزت و توقیر کی جائے تو اس کی اپنے ہمسائے اور بھائی کے لیے بھی یہی سوچ ہونی چاہیے۔
جب اس کے دل میں یہ تمنا ہے کہ وہ امن و امان اور سلامتی سے رہے تو اپنے بھائی کے لیے بھی ایسی ہی سوچ ہونی چاہیے کہ وہ بھی امن و امان اور سلامتی سے رہے۔
جن افراد میں ایسی سوچ ہوگی وہ معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ ہوگا۔
ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔
معاشرے کا ہر فرد اپنی جگہ جب ایسے جذبات و احساسات رکھے گا تو لامحالہ معاشرے میں سکون و اطمینان ہوگا۔
بے چینی اور اضطراب نہیں ہوگا۔
ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ اور ہمدرد ہوگا۔
اچھے معاشرے کا بھی یہی طرۂ امتیاز ہے۔
«أخرجه البخاري، الإيمان، باب من الإيمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه، حديث:13، ومسلم، الإيمان، باب الدليل علي أن من خصال الإيمان أن يحب لأخيه المسلم ما يحب لنفسه من الخير، حديث:45.»
تشریح: 1.اس حدیث میں تکمیل ایمان کے لیے ایک شرط بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے لیے پسند اور محبوب رکھے اپنے ہمسائے یا اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز محبوب رکھے۔
2. یقینا ہر انسان کی خواہش ہے کہ اس کی عزت و توقیر کی جائے تو اس کی اپنے ہمسائے اور بھائی کے لیے بھی یہی سوچ ہونی چاہیے۔
جب اس کے دل میں یہ تمنا ہے کہ وہ امن و امان اور سلامتی سے رہے تو اپنے بھائی کے لیے بھی ایسی ہی سوچ ہونی چاہیے کہ وہ بھی امن و امان اور سلامتی سے رہے۔
جن افراد میں ایسی سوچ ہوگی وہ معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ ہوگا۔
ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔
معاشرے کا ہر فرد اپنی جگہ جب ایسے جذبات و احساسات رکھے گا تو لامحالہ معاشرے میں سکون و اطمینان ہوگا۔
بے چینی اور اضطراب نہیں ہوگا۔
ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ اور ہمدرد ہوگا۔
اچھے معاشرے کا بھی یہی طرۂ امتیاز ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔